زندہ قوم
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۴۲
زندہ قوم
جب اموی خلیفۃ عبد الملک بن مروان کی وفات (86 ھ) ہوئی، تو اس کے لڑکے ہشام نے یہ شعر پڑھا:
فما كان قيس هلكه هلك واحد ولكنه بنيان قوم تهدمـا
قیس کی وفات ایک شخص کی وفات نہیں تھی، بلکہ اس کی وفات سے ایک پوری قوم کی بنیاد ہل گئی۔ یہ سن کر الولید بن عبد الملک اموی نے کہا، چپ ہو جاؤ، کیوں کہ تم شیطان کی زبان سے بول رہے ہو (فإنك تتكلم بلسان شيطان)۔ تم نے یہ کیوں نہیں کہا جو اس بن حجر نے کہا تھا: إذا مقرم مناذر احدنا به تخمط مناناب آخر مقرم جب ہم میں سے ایک سردار ہلاک ہو جاتا ہے، تو اس کی جگہ دوسرا سردار آجاتا ہے۔ (الكامل فی التاریخ، بيروت، 1997، 3/532)۔ اسی بات کو ایک اور شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
إذا مات منا سید قام بعده له خلف يكفي السيادة بارع یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اسلام میں افراد کے لیے بڑے بڑے القاب کا طریقہ نہیں ہے۔ مثلاً آپ اگر ایک شخص کو قائد اکبر کا خطاب دے دیں تو شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ ذہن بنے گا کہ قائد اکبر تو وہی ایک آدمی تھا، اس کے مرنے کے بعد جو لوگ ہیں، سب قائد اصغر ہیں۔ اسی طرح آپ اپنے ایک شخص کو مفکر اعظم کا ٹائٹل دے دیں، تو شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ ذہن بنے گا کہ مفکر اعظم تو ایک ہی تھا، اس کے بعد جو لوگ ہیں، وہ سب مفکر اصغر ہیں۔
اسلام میں اخلاقی احترام ہے، اسلام میں شخصی عظمت کا تصور نہیں۔ اسلام میں ایک دوسرے کی خیر خواہی کا تصور ہے، لیکن یہ تصور اسلام میں نہیں ہے کہ کسی ایک شخص کو اکبر اور اعظم جیسا ٹائٹل دیا جائے۔ کیوں کہ اس سے شخصیت پرستی کا ذہن پیدا ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2018 All issues