Al-Risala · February 2018 · page 11

اشمئزاز کیا ہے

الرسالہ، فروری ۲۰۱۸، صفحہ ۱۱

اشمئزاز کیا ہے

دل کی ایک کیفیت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ﴿وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِنْ دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ﴾ (39:45)۔ یعنی جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل تنگ پڑ جاتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو اس وقت وہ خوش ہو جاتے ہیں۔ اشمئزاز کا مطلب ہے دل کا تنگ ہونا (shrinking of the heart)۔ یہ ایک مخصوص نفسیاتی حالت کا نام ہے۔ جب کسی کا ذہن پیشگی طور پر متاثر ذہن بن جائے تو اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی بات اس کے موافق ہو تو وہ اس کو سن کر خوش ہوگا، اور اگر اس کو محسوس ہو کہ مذکورہ بات اس کے اپنے مفروضہ کے مطابق نہیں ہے، تو اس کو سن کر اس کا دل تنگ ہو جائے گا۔ یہی بات امر حق کے بارے میں بھی ہے۔ جس آدمی کے اندر اعترافِ حق کا مادہ نہ ہو، وہ چیزوں کو اپنے مفروضات سے جانچے گا۔ اگر بیان کردہ بات اس کے مفروضات کے مطابق ہے تو وہ خوش ہو کر اس کو مان لے گا۔ لیکن اگر بیان کردہ بات اس کے اپنے مفروضات کے مطابق نہ ہو، تو اس کو قبول کرنے کے معاملے میں اس کا دل تنگ ہو جائے گا۔ وہ اپنی بے اعترافی کو چھپانے کے لیے ایسی غیر متعلق باتیں بولے گا، جو صرف کہنے کے لیے ہوں گی، نہ کہ حقیقت کی ترجمانی کے لیے۔

اشمئزاز دراصل کبر کا ایک ظاہر ہے ۔ یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ کسی وجہ سے آدمی حق کو ماننا نہ چاہے۔ ایسے آدمی کا حال یہ ہوتا ہے کہ اگر اس کو دکھائی دے کہ حق اس کے مفروضات کی تصدیق کر رہا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر وہ محسوس کرے کہ جو بات امر حق کے طور پر سامنے آئی ہے، وہ اس کی رائے کی تصدیق نہیں کرتی تو اس کو قبول کرنے کے لیے اس کا دل تنگ ہو جاتا ہے۔ وہ حق کو نہ ماننے کے لیے ایسی غیر متعلق باتیں بولنے لگتا ہے، جس کی صداقت پر خود اس کا دل مطمئن نہیں ہوتا۔ اسی حالت کا نام اشمئزاز ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2018 All issues

Printed page