احسن العمل
الرسالہ، فروری ۲۰۱۸، صفحہ ۱۲
احسن العمل
انسان کے بارے میں تخلیقی منصوبہ کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : الَّذِي خَلَقَ المَوْتَ وَالحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (67:2)۔ یعنی خالق نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سب سے اچھے عمل والا کون ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ پیدا ہونے والے انسانوں میں سے احسن العمل کا انتخاب کرنا۔
قرآن کی اس آیت کا مفہوم ایک اور آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔ وہ آیت یہ ہے: مَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ وَمَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ (42:20)۔ یعنی جو شخص آخرت کی کھیتی چاہے ہم اس کو اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے۔ اور جو شخص دنیا کی کھیتی چاہے ہم اس کو اس میں سے کچھ دے دیتے ہیں اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا انسان کے لیے پودگاہ (nursery) کی مانند ہے۔ پودگاہ میں یہ ہوتا ہے کہ پودے عمومی انداز میں پیدا کیے جاتے ہیں۔ پھر ان میں جو پودا تندرست ہوتا ہے، اس کو چھانٹ کر نکال لیا جاتا ہے تاکہ اس کو زیادہ اچھی زمین میں نصب کر کے زیادہ اچھے ماحول میں گرو (grow) کرنے کا موقع دیا جائے۔
یہی حیثیت انسان کی نسبت سے موجودہ دنیا کی ہے۔ موجودہ دنیا کی حیثیت انسان کے لیے نرسری (nursery) جیسی ہے۔ یہاں انسان کو پیدا کر کے بسایا جاتا ہے تا کہ ان میں سے جو انسان اپنے کو احسن العمل یعنی زیادہ صحت مند ثابت کرے، اس کو دنیا کی نرسری سے نکال کر آخرت کے ہیبیٹاٹ (habitat) میں نصب کر دیا جائے، یعنی ابدی جنت میں۔ گویا کہ موجودہ دنیا کی زندگی نرسری کی زندگی ہے، اور آخرت کے ہیبیٹاٹ کی زندگی ابدی جنت کی زندگی ہے۔ یہ بلاشبہ حیات انسانی کے لیے بہترین اسکیم ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2018 All issues