گرہن، خالق کی ایک نشانی
الرسالہ، فروری ۲۰۱۸، صفحہ ۱۶
گرہن، خالق کی ایک نشانی
7 اگست 2017 کو چاند گرہن (lunar eclipse) پڑا۔ یہ ایک جزئی (partial) چاند گرہن تھا۔ اس کے بعد 21 اگست 2017 کو سورج گرہن (solar eclipse) پڑا، اور زمین کے بہت بڑے رقبے میں اس کا مشاہدہ کیا گیا۔
اس قسم کا واقعہ ہجرت کے بعد مدینہ میں پیش آیا تھا۔ یہ سورج گرہن تھا، جو 10 ہجری میں پیش آیا تھا۔ اسی تاریخ کو پیغمبر اسلام کے بیٹے ابراہیم کی وفات ہوئی تھی۔ قدیم زمانہ میں یہ مانا جاتا تھا کہ گرہن اس وقت پڑتا ہے، جب زمین پر کوئی سنگین واقعہ پیش آئے۔ چنانچہ مدینہ کے لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ چوں کہ آج پیغمبر کے بیٹے کی وفات ہوئی ہے، اس لیے یہ گرہن پڑا ہے۔ پیغمبر اسلام کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ نے اعلان کیا کہ لوگ مدینہ کی مسجد میں اکٹھا ہو جائیں۔ اس کے بعد آپ نے مدینہ کی مسجد میں خطبہ دیا: إن الشمس والقمر آيتان من آيات الله، لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته، فإذا رأيتم ذلك، فاذكروا الله (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1052)۔ یعنی سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں، ان کو نہ کسی کی موت سے گرہن لگتا ہے، اور نہ کسی کی زندگی سے۔ جب تم اس کو دیکھو تو اللہ کو یاد کرو۔ پیغمبر اسلام نے اپنے اس خطاب میں گرہن کو خدا کی ایک نشانی (sign of God) بتایا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ گرہن کا واقعہ کسی زمینی حادثہ کی بنا پر پیش نہیں آتا۔ بلکہ وہ خالق کے مقرر کیے ہوئے ابدی قانون کے تحت پیش آتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی مطالعہ کے تحت متعین طور پر یہ معلوم ہو چکا ہے کہ گرہن کا واقعہ کیوں پیش آتا ہے:
Eclipse is a well-calculated alignment of three
moving bodies of different sizes in the vast space at a particular point in time. چاند گرہن اور سورج گرہن کا واقعہ کیوں پیش آتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان اس
‹ Previous page Next page › Contents of February 2018 All issues