Eclipse is a well-calculated alignment of three
الرسالہ، فروری ۲۰۱۸، صفحہ ۱۷
جس تک فضا کو پرسکون رکھا جاسکتا ہے، لیکن سطح پر باقی رہنے والی آلودگی جو زمین کی سطح سے لگ کر چلتی ہے نہاروالقمر حیرت ناک فلکیاتی واقعہ کو دیکھے، اور مشاہداتی سطح پر خالق کے کمال قدرت کو جانے، اور خالق کو دریافت کر کے خالق کی عظمت میں جینے والا بن جائے۔
اس انوکھے فلکیاتی مشاہدہ میں انسان کے لیے کیا سبق ہے۔ خالق کی عظمت ساری کائنات میں پھیلی ہوئی ہے۔ پہاڑ، سمندر، سولر سسٹم، کہکشانی نظام، اور اس طرح کے دوسرے مظاہر مسلسل طور پر انسان دیکھتا رہتا ہے۔ ان کو دیکھتے دیکھتے انسان یوزڈ ٹو (used to) ہو جاتا ہے۔ اس لیے خدا استثنائی طور پر کبھی کبھی سورج گرہن اور چاند گرہن کا منظر انسان کو دکھاتا ہے۔ تاکہ یکسانیت کی وجہ سے انسان کی سوچ میں جو ٹھہراؤ آ گیا ہے، وہ ٹوٹے، اور انسان دوبارہ تخلیقی انداز ( creative mind) کے ساتھ خدا کی تخلیقات کا مشاہدہ کر سکے۔ انسان کا مزاج ہے کہ یوزڈ ٹو (used to) ہوتے ہوتے اس کے اندر جمود (stagnation) پیدا ہو جاتا ہے۔ خالق کی منشا ہے کہ یہ جمود ہوتے ہوئے اس کے اندر مور (stagnation) پیدا ہو جاتا ہے۔ حاس کی ٹوٹے۔ انسان بیدار ذہن کے ساتھ دنیا میں جینے والا بن جائے۔
✩✩✩✩✩✩✩
میرا ترجہ یہ ہے کہ لوگ دوسروں کے سامنے تجویزیں تو خوب پیش کر۔ سا ہے کہ یہ تے ہیں مگر میرا تجربہ ہے کہ لوگ دوسروں کے سامنے جو چیزیں لوحوب پیش کرتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ اس معاملے میں خود اُن کی اپنی ذمہ داری کیا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان میرے پاس آئے۔ انھوں نے کہا کہ آپ فلاں موضوع پر کتاب تیار کر کے اس کو چھپائیے۔ میں نے کہا کہ میں نے بہت سے دینی موضوعات پر کتابیں تیار کر کے چھاپی ہیں، ان کے سلسلے میں آپ نے کیا کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے تو کچھ نہیں کیا۔ میں نے کہا کہ آپ پہلے چھپی ہوئی کتابوں کو پھیلا کر اپنی ذمے داری ادا کیجئے۔ اس کے بعد نئی کتابوں کی تجویز پیش کیجئے۔ اس قسم کا آپ کے برے رویوں اور عادتوں سے بھری ہوئی اس طرح کی زندگی سے گھٹن زدہ ذہن کوئی صحت مند ذہن نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2018 All issues