امۃ کی مسلسل اصلاح کا نظام
الرسالہ، فروری ۲۰۱۸، صفحہ ۲۰
دو سطحی نظام کی ضرورت اس لیے ہے کہ فارم کی ایک مستقل صورت ہوتی ہے۔ مثلاً پانچ وقتہ نماز کا نظام یا سالانہ حج کا نظام ، وغیرہ ۔ یہ ہمیشہ ایک ہی ہیئت (form) پر قائم رہیں گے۔ دینی نظام کا یہ پہلو عملی اعتبار سے ابدی ہے۔ اس ابدی پہلو کی طرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں اشارہ کیا تھا: صلوا كما رأيتموني أصلي (صحیح البخاری، حدیث نمبر 631)۔ اس حدیث کا مخاطب صرف صحابہ نہ تھے، بلکہ وسیع ترانداز میں اس کا خطاب پوری امت محمدی سے ہے۔ لیکن جہاں تک امت کے افراد کا معاملہ ہے، وہ ہمیشہ ایک حالت پر قائم نہیں رہتے۔ بلکہ نسل درنسل ان کے اندر تبدیلی آتی رہتی ہے۔ دادا کے بعد باپ، باپ کے بعد بیٹا، بیٹے کے بعد پوتا، وغیرہ ۔ بعد میں آنے والی نسلوں کو ہمیشہ مختلف حالات سے سابقہ پیش آتا ہے۔ نیز طول آمد (الحديد 16:57) کی بنا پر اسپرٹ کے اعتبار سے ان کی بعد کی نسلوں میں زوال آجاتا ہے۔ ایسے حالات میں ضرورت ہوتی ہے کہ اسپرٹ کے اعتبار سے ان کو دوبارہ تازہ دم بنایا جائے۔ افراد کی اس ذہنی تعمیر کے تقاضے ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔ مثلاً انیسویں صدی عیسوی میں دنیا میں ایک نیا دور آیا جس سے امت کے افراد بھی شدت کے ساتھ متاثر ہوئے ۔ وہ دور یہ تھا کہ مغرب کی قومیں نئی طاقت کے ساتھ ابھریں۔ وہ پوری مشرقی دنیا پر سیاسی اور تہذیبی اعتبار سے چھاگئیں۔ اس زمانے کی دوسری قوموں کی طرح مسلم قومیں بھی اس کی زد میں آگئیں۔ اس انقلاب کے نتیجے میں امت کے افراد عمومی طور پر منفی ذہنیت (negative thinking) کا شکار ہو گئے ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس دور تبدیلی میں امت مسلمہ کے اندر ’ربانی علماء‘ کا کوئی گروہ نہیں اٹھا، نہ عرب دنیا میں اور نہ غیر عرب دنیا میں۔ اس دور میں کرنے کا کام یہ تھا کہ امت کے افراد کو نئے دور کا صحیح مطالعہ کرایا جائے۔ ان کی منفی سوچ کو ختم کر کے دوبارہ ان کو مثبت سوچ پر قائم کیا جائے۔ ان کو یہ بتایا جائے کہ مغربی قومیں تمھاری دشمن یا حریف نہیں ہیں، بلکہ وہ تمھارے لیے مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں۔ تم کو چاہیے کہ تم مغربی قوموں کے بارے میں ردعمل کا طریقہ اختیار نہ کرو، بلکہ ان کے مقابلے میں مثبت ذہن کے ساتھ دعوت کی پرامن منصوبہ بندی کرو۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2018 All issues