جہاد کیا ہے
الرسالہ، فروری ۲۰۱۸، صفحہ ۲۱
جہاد کیا ہے
جہاد کیا ہے، اس کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا چاہئے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان جہاد کے نام پر جو کچھ کر رہے ہیں، وہ جہاد نہیں ہے۔ یہ سب قومی جذبات کے تحت چھیڑی ہوئی لڑائیاں ہیں جن کو غلط طور پر جہاد کا نام دے دیا گیا ہے۔
جہاد اصلاً پرامن جدوجہد کا نام ہے، وہ قتال کے ہم معنی نہیں۔ کبھی توسیعی استعمال کے طور پر جہاد کو قتال کے مفہوم میں بولا جاتا ہے۔ مگر لغوی مفہوم کے اعتبار سے جہاد اور قتال دونوں ہم معنی الفاظ نہیں ۔ یہاں اس سلسلہ میں قرآن وحدیث سے جہاد کے بعض استعمالات درج کئے جاتے ہیں: 1۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (29:69)۔ یعنی جن لوگوں نے جہاد کیا ہماری خاطر تو ہم اُن کو اپنی راہیں دکھائیں گے۔ اس آیت میں تلاش حق کو جہاد کہا گیا ہے۔ یعنی اللہ کو پانے کے لیے کوشش کرنا، اللہ کی معرفت حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنا، اللہ کی قربت ڈھونڈھنے کے لیے کوشش کرنا۔ ظاہر ہے کہ اس جہاد کا قتال یا ٹکراؤ سے کوئی تعلق نہیں۔
2۔ اسی طرح قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِهِم (49:15)۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنے مال سے جہاد کیا۔ اس آیت کے مطابق، اپنے مال کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرنا ایک جہادی عمل ہے۔
3۔ اسی طرح قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَجَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (25:52) یعنی غیر مومنین کے ساتھ قرآن کے ذریعہ جہاد کرو۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن کی تعلیمات کو پھیلانے کے لیے پر امن جدوجہد کرو۔
4۔ اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: المجاهد من جاهد نفسه في طاعة الله (مسند احمد، حدیث نمبر 23958)۔ یعنی مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد
‹ Previous page Next page › Contents of February 2018 All issues