Al-Risala · January 2018 · page 8

حالات سے اوپر اٹھ کر سوچنا

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۸

بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان منکروں کی نسل سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف اسی کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ بالکل شرک نہ کریں گے۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3231) اس کا مطلب یہ تھا کہ پیغمبر اسلام کا مشن انسان کی خیر خواہی کا مشن تھا۔ انسان کے ساتھ آپ کی خیر خواہی اتنی زیادہ بڑھی ہوئی تھی کہ اگر پہلی نسل آپ کے پیغام کو نہ سنے تو آپ اس کے لیے تیار تھے کہ ان کی اگلی نسلیں ان سے مختلف ثابت ہوں گی، اور آپ کے پیغام کو قبول کریں گی، اور آپ کے مشن میں آپ کی ساتھی بن جائیں گی۔

حالات سے اوپر اٹھ کر سوچنا

مکی دور میں پیغمبر اسلام کے ساتھ وہی سلوک کیا جاتا تھا، جو سلوک دوسرے پیغمبروں کے ساتھ کیا گیا، یعنی استہزا (الحجر: 11)۔ مگر پیغمبر اسلام کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ہمیشہ منفی واقعات کا جواب مثبت انداز میں دیتے تھے۔ اس سلسلے میں ایک روایت حدیث کی کتابوں میں اس طرح آئی ہے، پیغمبر اسلام نے کہا: ألا تعجبون كيف يصرف الله عني شتم قريش ولعنهم، يشتمون مذممممممما، ويلعنون مذمما وأنا محمد (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3533)۔ یعنی کیا تم کو یہ بات عجیب نہیں معلوم ہوتی کہ اللہ مجھ سے قریش کے سب وشتم اور لعنت کو کس طرح دور کر رہا ہے۔ مجھے وہ مذم کہہ کر شتم کرتے ہیں، مذمم کہہ کر وہ مجھ پر لعنت بھیجتے ہیں۔ حالانکہ میں تو محمد ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قریش کے لوگ اپنی بڑھی ہوئی مخالفت کی بنا پر اس کو پسند نہیں کرتے کہ وہ میرا اصل نام بولیں، اور میرے خلاف جو کہنا چاہتے ہیں، وہ میرا نام لے کر کہیں انھوں نے مخالفت کے جوش میں بطور خود میرا نام محمد کے بجائے مذم رکھ دیا، اور وہ مذم کا نام بول کر میرا سب وشتم کرتے ہیں۔ یعنی وہ سب وشتم تو کرتے ہیں، لیکن جس شخص کی وہ سب وشتم کرتے ہیں، اس کا نام انھوں نے بطور خود مذم رکھ دیا ہے۔ اس طرح ان کے اپنے کہنے کے مطابق ان کی بات کسی ایسے شخص پر پڑتی ہے جس کا نام مذم ہو، وہ شخص جس کا نام محمد ہے اس پر ان کی بات پڑتی ہی نہیں۔ یہ اعلی سوچ کی ایک انوکھی مثال ہے۔ پیغمبر اسلام چوں کہ مکمل طور پر مثبت سوچ پر قائم

‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues

Printed page