Al-Risala · January 2018 · page 9

مشن کی نئی پلاننگ

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۹

تھے۔ اس لیے انھوں نے ایک لطیف اسلوب میں قریش کے سب وشتم کو بے حقیقت کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ جب وہ میرا اصل نام لے کر مجھے کچھ نہیں کہتے تو وہ خود ہی اپنے سب وشتم کو کسی اور کے اوپر ڈال رہے ہیں۔ یعنی کسی مفروضہ مذم پر، نہ کہ اس شخص پر جس کا نام اس کے ماں باپ نے محمد رکھا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسوۂ محمدی میں سب وشتم پر مشتعل ہونا نہیں ہے، اور نہ شاتم کو قتل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ بلکہ اس سے لطیف پیرائے میں اعراض کرنا ہے۔ یہ بلند اخلاقی کا معاملہ ہے، نہ قانونی سزا کا معاملہ۔

مشن کی نئی پلاننگ

پیغمبر اسلام نے اپنا مشن قدیم مکہ میں شروع کیا۔ اس وقت قدیم مکہ شرک کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اس لیے وہاں آپ کی شدید مخالفت ہوئی۔ یہاں تک کہ انھوں نے آپ کو الٹی میٹم دے دیا کہ آپ مکہ کو چھوڑ دیں، ورنہ ہم آپ کو قتل کر دیں گے۔ ان حالات میں آپ نے مکہ کو چھوڑ دیا، اور خاموشی کے ساتھ مدینہ آ کر وہاں رہائش اختیار کرلی۔ ہجرت سے کچھ پہلے آپ نے اپنے اصحاب سے کہا تھا: أمرت بقرية تأكل القرى، يقولون يثرب، وهي المدينة (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1871)۔ عام رواج کے مطابق کوئی شخص آسانی سے اپنا وطن نہیں چھوڑتا، بلکہ اس فیصلہ کو بدلوانے کی ہر کوشش شروع کر دیتا ہے۔ مگر پیغمبر اسلام نے قدیم مکہ کے سرداروں کے اس فیصلہ کو قبول کر لیا، اور خاموشی سے مدینہ آ کر آباد ہو گئے۔

اپنے نتیجے کے اعتبار سے دیکھیے تو یہ ایک نہایت حکیمانہ عمل تھا— یعنی اگر پہلا منصوبہ ورک نہ کرے تو لو پروفائل (low profile) کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے خاموشی کے ساتھ اپنے عمل کا دوسرا منصوبہ بنانا۔ آپ نے ایسا ہی کیا، اور آپ نے پرامن طور پر مدینہ آ کر یہاں ازسرِ نو اپنے مشن کا منصوبہ بنایا۔ آپ کا یہ طریقہ اتنا کامیاب ہوا کہ صرف دس سال کے اندر پہلے مکہ اور پھر سارا عرب آپ کے دائرے میں آ گیا۔

ایسے حالات میں عام طور پر لوگ جوابی ذہن کے تحت سوچتے ہیں، اور ٹکراؤ کا طریقہ اختیار

‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues

Printed page