Al-Risala · February 2018 · page 22

جہاد کیا ہے

الرسالہ، فروری ۲۰۱۸، صفحہ ۲۲

کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نفس کی ترغیبات سے لڑ کر اپنے آپ کو سچائی کے راستہ پر قائم رکھنا جہاد ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ لڑائی داخلی طور پر نفسیات کے میدان میں ہوتی ہے، نہ کہ خارجی طور پر کسی جنگ کے میدان میں۔

5۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الحج جہاد (ابن ماجہ، حدیث نمبر 2902)۔ یعنی حج جہاد ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حج کا عمل ایک مجاہدانہ عمل ہے۔ حج کو مطلوب انداز میں انجام دینے کے لیے آدمی کو سخت جد و جہد کرنی پڑتی ہے۔ 6۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کی خدمت کے بارے میں فرمایا : ففيهما فجاهد (البخاری، حدیث نمبر 3004) یعنی تم اپنے والدین میں جہاد کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ ماں باپ کی خدمت کرنا جہاد کا ایک عمل ہے۔ اس طرح کی مختلف آیتیں اور حدیثیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد کا عمل اصلاً ایک پرامن عمل ہے۔ وہ کسی مطلوب خدائی کام میں پرامن دائرہ کے اندر جد و جہد کرنا ہے۔ جہاد کے لفظ کا صحیح ترجمہ پرامن جد و جہد (peaceful struggle) ہے۔

☆☆☆☆☆☆

مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلق کی فطری بنیاد یہ ہے کہ دونوں یکساں طور پر انسان ہیں ۔ دونوں کے درمیان انسانیت کا ابدی رشتہ قائم ہے۔ انسانیت کا تعلق دونوں کے درمیان وہ فطری تعلق ہے جو کبھی اور کسی حال میں ٹوٹنے والا نہیں ۔ ہر سماج میں اور ہر ملک میں یہ انسانی رشتہ یکساں طور پر برقرار رہتا ہے ۔ یہ رشتہ وہ ہے جو پیدائش کے ساتھ ہی دونوں گروہوں کے درمیان اپنے آپ قائم ہو جاتا ہے ۔ یہ ایک ایسا اٹل رشتہ ہے جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2018 All issues

Printed page