غصہ کا مثبت پہلو
الرسالہ، فروری ۲۰۱۸، صفحہ ۴۴
غصہ کا مثبت پہلو
غصہ کو عام طور پر ایک منفی ظاہر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن غصہ کا ایک مثبت پہلو ہے۔ آدمی اگر غصہ کے وقت بے صبر ہو جائے تو غصہ اس کے لیے نقصان کی چیز بن جاتا ہے۔ لیکن آدمی اگر غصہ کے وقت خود کو کنٹرول کرے تو غصہ اس کے لیے ایک مثبت عمل بن جائے گا۔ غصہ اجتماعی زندگی کا ایک ظاہر ہے۔ آدمی اگر تنہائی کی زندگی گزار رہا ہو تو اس کو غصہ نہیں آئے گا۔ غصہ اس وقت آتا ہے جب کہ آدمی دوسروں کے درمیان ہو، اور دوسروں کی کوئی بات اس کو پسند نہ آئے۔ اس وقت اس کے اندر غصہ بھڑکتا ہے۔ لیکن غصہ اپنی ذات میں کوئی برائی نہیں۔ غصہ اس وقت بری چیز بن جاتا ہے، جب کہ آدمی غصہ کے وقت رد عمل کا شکار ہو جائے۔ وہ غصہ کو بینچ کرنے میں ناکام رہے۔ غصہ ایک فطری ظاہر ہے۔ غصہ کسی آدمی کے لیے ایک شاکنگ تجربہ ہوتا ہے۔ جب کسی آدمی کو غصہ آتا ہے تو فطری طور پر اس کے اندر سے بڑی مقدار میں اینگر انرجی (anger energy) خارج ہوتی ہے۔ غلط یہ ہے کہ آدمی اپنی اینگر انرجی کو بینچ نہ کر سکے۔ لیکن اگر آدمی اپنے اینگر انرجی کو بینچ کر سکے تو وہ اس کی فکری طاقت میں اضافہ کا ذریعہ بن جائے گی۔
جب کسی بات پر آدمی کو غصہ آتا ہے تو اس کے اندر سوچنے کا عمل (thinking process) بہت تیز ہو جاتا ہے۔ یہ ظاہر اس کی فکری طاقت کو بہت بڑھا دیتا ہے۔ وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اس کی قوت فیصلہ بہت بڑھ جاتی ہے۔ اس کی کارکردگی کی طاقت میں بہت اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر چھپی ہوئی توانائی شدت کے ساتھ جاگ اٹھتی ہے۔ اس کے دماغ کی بند کھڑکیاں کھل جاتی ہیں۔ وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ جب غصہ آئے تو صرف یہ کیجیے کہ چپ ہو کر سوچنا شروع کر دیجیے، اور اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوگا کہ غصہ کے وقت ریلیز ہونے والی اینگر انرجی مثبت انرجی بن جائے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2018 All issues