Al-Risala · February 2018 · page 49

ذہنی سکون

الرسالہ، فروری ۲۰۱۸، صفحہ ۴۹

الغرض سیاسی خلافت کے علاوہ دینی اور دعوتی خلافت کا جو تصور آپ نے بیان کیا، یہ میرے لیے واضح ہوا۔ اگر میں اس وضاحت سے محروم رہتا تو مطلوب الہیٰ کے بارے میں مشتبہ رہ کر ہلاک ہو جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ بھی سیاسی خلافت کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں، وہ دین رحمت کو دین زحمت بنارہے ہیں۔ دین کی سیاسی تعبیر کرنے والے مقصد تخلیق کو اسی آیت سے واضح کرتے ہیں۔ مگر مفسرین کی ایک بڑی تعداد نے قوم در قوم اور نسل در نسل کی خلافت کو مانا ہے۔ اس سے یہ واضح ہوا کہ قرآن کی اس آیت سے علمی اور دعوتی خلافت کا استدلال ممکن ہے، نہ کہ سیاسی اقتدار والی خلافت۔ اس کے بعد ایک اور چیز میرے لیے غیر واضح تھی ۔ وہ یہ کہ خدا کے اس تخلیق منصوبہ میں کسی قوم کا یا نسل کا گیے بعد دیگرے آنا ، کیا ہے۔ اس میں کوئی بڑا معنوی مفہوم اور مقصود سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ جب آپ نے یہ کہا کہ انسان کی زندگی کے خاتمہ کے ساتھ ہی علمی ارتقاء کا انقطاع ہو جاتا تھا۔ اس لیے یہ ضروری تھا کہ علم وفکر کی تسلسل کے لئے خلافت کا پروسس جاری کیا جائے ۔ یہاں تک کہ خدا کا دین محفوظ اور مستند ہو گیا، اور اس کی حفاظت اور اشاعت کے لئے حالات اور وسائل میسر ہو گئے۔ ماضی کی اسلامی خلافتوں نے نسل در نسل پیغام رب کو محفوظ کر لیا، اور اہل یورپ کی ایجادات نے مستند دین کی حفاظت اور اشاعت کا سامان کر دیا ۔ گویا علمی خلافت کا مطلوب رول ادا کرنے کے لیے سارے وسائل ملے ہوئے ہیں۔ ایسے میں خلافت کو عالمی اقتدار کے معنی میں لینا خدا کے منصوبہ کو جیو پرڈائر (jeopardize) کرنے کے ہم معنی ہے۔ یہ مفہوم مجھے پہلی مرتبہ واضح ہوا۔ اگر یہ نہیں جانتا تو خدا کا مطلوب جانے بغیر ہلاک ہو جاتا۔ کیونکہ اختیار کی اس دنیا میں اقتدار کی جنگ چھیڑنا یہی سیاسی خلافت کی تبلیغ ہے، مگر اس کو اقامت دین کا خوبصورت نام دے دیا گیا ہے۔ اس لیے جو بھی اس آیت کی بنیاد پر سیاسی خلافت کی تحریک چلاتے ہیں، غلطی پر ہیں۔ یہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے دعوت دین کے لیے ملے ہوئے مواقع کو موانع میں تبدیل کرنا ہے۔ اس کے برعکس، آپ نے جو تصور خلافت دیا، یعنی علمی اور فکری طور پر ایک دوسرے کا خلیفہ ہونا۔ اس سے تخلیق انسانی کی مثبت تو جیبیل جاتی ہے، اور مذہبی وسیکولر دونوں طبقہ انسان کا اعتراف ہو جاتا ہے۔ نیز دور جدید کی معنویت سمجھ میں آجاتی ہے۔ اس سے پرامن ایکشن اور اقدام کا راستہ مل جاتا ہے۔ یعنی خدا کے دین کو ہر ایک کے لیے پرامن طریقہ سے اویلبل (available) کرانا، اور ادخال کلمہ فی کل البیوت کا فرض ادا کرنا ہے۔ جزاک اللہ خیرا (مولانا سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تامل ناڈو [9994436917 .Mob]) مفسرین کا وہ اقلیتی گروپ جس نے خلیفہ اور خلافت کا سیاسی تصور ڈیولپ کیا تھا، انھوں نے لوگوں کے ذہنوں کو واقعی غوغائیت اور شورش پسندی سے بھر دیا ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں مفسرین کی وہ اکثریت جنھوں نے اس آیت کی تشریح يخلف بعضهم بعضا جیسے الفاظ سے کی تھی، انھوں نے بھی خلیفہ اور خلافت کے مفہوم کو غیر واضح اور نامکمل چھوڑ دیا تھا۔ ان دونوں کے برعکس ، اتوار (12 نومبر 2017) کے درس قرآن میں آپ نے جو تشریح اور آیت کی واقعاتی توجیہ کی، اس سے مجھے پہلی مرتبہ خلیفہ اور خلافت کے مفہوم کی صحت منداور واضح تو جیپلی، اور میرا دل

‹ Previous page Next page › Contents of February 2018 All issues

Printed page