ذہنی سکون
الرسالہ، فروری ۲۰۱۸، صفحہ ۴۸
واق بن کر رہے، ورنہ وہ حصائد لسان کا شکار ہوکر رہ جائے گا۔ دوسری بات یہ کہ ھدی للمتقین کو جس طرح آپ نے بالکل نئے انداز میں بتایا ہے، ایک عالم دین کی حیثیت سے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ایسا اس سے پہلے میں نے نہیں سنا، نہ کسی اور لٹریچر یہ بات پڑھی ہے۔ آپ نے جب یہ کہا کہ رسول اللہ نے 13 سال تک کعبہ میں بتوں کی موجودگی پر کچھ نہیں کہا۔ اس جملہ سے مجھے رسول اللہ کا اصل مشن کیا تھا واضح ہوا۔ وہ یہ کہ رسول اللہ دراصل انسان کو خدا سے جوڑنے کے لیے آئے تھے۔ آپ کا اصل فوکس انسان کا داخلی شعور تھا۔ انسان کو خدا سے جوڑنے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ تیرہ سال تک مکہ میں رہے، مگر آپ نے کعبہ میں بتوں کی موجودگی پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔ بلکہ انسان کو شعور کی سطح پر خدا کی عظمت میں جینے والا بنانے میں لگے رہے۔ جب یہ بات مجھے سمجھ میں آئی تو اس کے بعد یہ بات سمجھ میں آئی کہ بالکل یہی اسلوب، یہی مقصد الرسالہ مشن کا بھی ہے۔ میں نے مولانا، آپ کورسول اللہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پایا ہے۔ جب سے الرسالہ مشن سے جڑا ہوں، اور آپ کی باتوں کو سن رہا ہوں اور پڑھ رہا ہوں تو یہی مجھے لگا ہے۔
رہی درسِ قرآن سے متعلق بات تو مولانا، آپ نے جو درسِ قرآن کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس بارے میں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ میں خود ایک مدرسہ کا فارغ ہوں۔ لیکن آپ جس طرح سے قرآن کی آیات کو واضح کرتے ہیں اور اسے ہماری روحانی غذا بناتے ہیں، ایسا میں نے نہیں دیکھا۔ دیگر علماء کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ سلف نے جس طرح سے آیات کی تفسیر کی ہے، وہ امانت داری کے ساتھ ہم تک پہنچائیں، بس۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ لیکن آپ ان آیات کو دورِ جدید پر منطبق کرتے ہیں، اور اسے ہمارے لیے روحانی غذا بنا دیتے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اسلام ہمارے لیے ہمارے اسلاف کی وراثت نہیں لگتا، بلکہ وہ ہماری ڈسکوری بن جاتا ہے۔ گویا اسلام میری اپنی دریافت ہے، نہ کسی دوسرے کی طرف سے ملا ہوا ایک ورثہ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی باتیں سن کر پڑھ کر اسلام مزید نکھر کر آتا ہے، وہ ہمارے لیے مزید دلچسپی اور شوق کا دین بن جاتا ہے۔ ہمیں اس دن بہت خوشی ہوتی ہے جب کہ اسلام کی کوئی بات ڈسکور ہوجائے ، اسلام کی کوئی بات ہماری روحانی غذا بن جائے۔ اللہ مجھے الرسالہ مشن پر ثابت قدم رکھے۔ اور زیادہ سے زیادہ اعلیٰ معرفت حاصل کرنے کی توفیق دے تا کہ جنت میں اعلیٰ درجہ مل سکے، آمین۔ (مولانا عبد الباسط عمری، قطر)
اتوار (12 نومبر 2017) کے درسِ قرآن میں مولانا نے سورۃ البقرۃ کی آیت: انی جاعل فی الارض خليفة (2:30) میں خلیفہ کی جو تشریح کی وہ میرے لیے بالکل نئی ہے، اور اس آیت کو ایک نئے انداز سے سمجھنے پر ابھارتی ہے۔ اس سے پہلے یہ آیت میرے لئے بہت زیادہ غیر واضح تھی۔ خلیفہ کا مفہوم بہت ہی معنی خیز ہے۔ اس سے پہلے میرے نزدیک سیاسی خلافت کا ہی تصور تھا۔ علمی و فکری خلافت کا تسلسل اور آخر میں دین رب کا مستند ہونا پھر اس کی حفاظت کی خلافت اور اس کی اشاعت کے مطلوب مواقع اور وسائل کی خلافت، وغیرہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2018 All issues