بچوں کی تربیت
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۹، صفحہ ۸
بچوں کی تربیت
ایک مغربی ملک میں مقیم ایک مسلم خاندان نے اس کا اظہار کیا کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ اُن کے بچے کچھ دنوں کے لیے آکر ہمارے یہاں ٹھہریں اور ہم سے اسلامی تربیت حاصل کریں۔ میں نے اِس تجویز کو رد کر دیا۔ میرے نزدیک یہ تربیت کا ایک مصنوعی طریقہ ہے۔ اس دنیا میں کوئی بھی نتیجہ خیز کام صرف فطری طریقے کے مطابق انجام پاتا ہے، غیر فطری طریقہ کسی بھی کام کے لیے ہرگز مفید نہیں۔
اس سلسلے میں مجھے ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ اپریل 1981 میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کے تحت میں باربیڈوز (Barbados) گیا تھا۔ اس سلسلے میں وہاں کے مقیم مسلمانوں نے ایک مسجد میں میرا پروگرام رکھا۔ ایک صاحب اپنے ایک بچے کو اپنے ساتھ لے کر وہاں آئے۔ یہ بچہ جو تقریباً 12 سال کا تھا، وہ اصل اجتماع کے باہر ایک مقام پر اس طرح بیٹھا کہ اس کی پیٹھ میری طرف تھی اور اس کا چہرہ دوسری طرف۔ ایک شخص نے اُس سے کہا کہ تم اس طرح کیوں بیٹھے ہو، اندر چل کر لوگوں کے ساتھ بیٹھو۔ لڑکے نے نہایت بے پروائی کے ساتھ جواب دیا—می ناٹ (me not“) یعنی مجھے اس سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ یہ واقعہ موجودہ زمانہ کے تمام مسلم خاندانوں کے لیے ایک علامتی واقعے کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج کل کے لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ محنت کرکے کماتے ہیں اور پھر محبت کے نام پر اپنی کمائی کا بڑا حصہ بچوں پر خرچ کرتے ہیں۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ محبت نہیں ہے، بلکہ وہ لاڈ پیار (pampering) ہے، اور یہ ایک واقعہ ہے کہ بچوں کو بگاڑنے کا سب سے بڑا سبب یہی لاڈ پیار ہے۔
کسی بچے کا ابتدائی تقریباً 10 سال وہ ہے جس کو، نفسیاتی اصطلاح میں، تشکیلی دور (formative period) کہا جاتا ہے۔ یہ تشکیلی دور بے حد اہم ہے، کیوں کہ اس تشکیلی دور میں کسی کے اندر جو شخصیت بنتی ہے، وہ بے حد اہم ہے۔ یہی شخصیت بعد کی پوری عمر میں باقی رہتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2019 All issues