Al-Risala · March 2019 · page 9

بچوں کی تربیت

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۹، صفحہ ۹

اسی حقیقت کو ایک عربی مقولے میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: من شب علی شیء شاب علیہ (آدمی جس چیز پر جوان ہوتا ہے، اُسی پر وہ بوڑھا ہوتا ہے)۔

لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ تشکیلیی دور (formative period) میں نام نہاد محبت کے ذریعے بچوں کو بگاڑ دیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ آج کل کے تمام والدین اپنے بچوں کو می نائٹ بچے (me not children) بنا دیتے ہیں۔ اس کے بعد وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے کسی کرشمہ ساز تربیتی طریقے (charismatic method of training) کے ذریعے اصلاح یافتہ بن جائیں۔ میرے تجربے کے مطابق، اصل مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے والدین اپنے بچوں کی تربیت کے معاملے میں سنجیدہ نہیں۔ اس معاملے میں اگر کوئی باپ زیادہ سے زیادہ سوچ پاتا ہے تو وہ صرف یہ کہ وہ اپنے بیٹے کو گول ٹوپی اور اپنی بیٹی کو اسکارف پہنا دے، اور پھر خوش ہو کہ اُس نے اپنی اولاد کو اسلامی تربیت سے مزین کر دیا ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص اپنے بچوں کی تربیت کے معاملے میں سنجیدہ ہو تو اس کے لیے میں چند عملی مشورے یہاں درج کروں گا۔

1- محبت کے نام پر لاڈ پیار (pampering) کو وہ اس طرح چھوڑ دیں جیسے وہ کسی حرام کو چھوڑتے ہیں۔ محبت کے نام پر جو لاڈ پیار کیا جاتا ہے، اُس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ بچے کو زندگی کے حقائق (realities) سے بالکل بے خبر کر دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچے کے اندر حقیقت پسندانہ طرزِ فکر (realistic approach) کا نشوونما نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ اس کے نتیجے میں بچے کے اندر ایک خود پسند شخصیت (self-centered personality) تشکیل پاتی ہے، جو کسی آدمی کے لیے کامیاب زندگی کی تعمیر میں بلا شبہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ 2- اس سلسلے میں یہ بات بہت زیادہ قابلِ لحاظ ہے کہ بچے کی عمر کا ابتدائی تشکیلی د ور ماں باپ کے ساتھ گزرتا ہے۔ اس دور میں بچے کے اندر جو شخصیت بنتی ہے، وہ ہمیشہ بدستور اس کے اندر باقی رہتی ہے۔ والدین کو جاننا چاہیے کہ اس ابتدائی تشکیل دور میں اگر انھوں نے بچے کی تربیت میں غلطی کی تو بعد کے زمانے میں اس کی تلافی کبھی نہ ہو سکے گی۔ بعد کے زمانے میں ایسے کسی شخص کی اصلاح کی

‹ Previous page Next page › Contents of March 2019 All issues

Printed page