Al-Risala · March 2019 · page 10

بچوں کی تربیت

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۹، صفحہ ۱۰

صرف ایک ممکن صورت ہوتی ہے، اور وہ یہ کہ اس کو شدید نوعیت کا کوئی ہلا دینے والا تجربہ (shocking experience) پیش آئے جو اس کے لیے ایک نقطہ انقلاب (turning point) بن جائے، مگر بہت کم لوگوں کو اس قسم کا ہلا دینے والا تجربہ پیش آتا ہے، مزید یہ کہ ایسا ہلا دینے والا تجربہ اور بھی نادر (rare) ہے، جب کہ وہ آدمی کے لیے مثبت انقلاب کا سبب بن جائے۔ 3- اپنے تجربے کی روشنی میں ایسے والدین کو میرا مشورہ یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو ہمارے یہاں کا مطبوعہ لٹریچر اہتمام کے ساتھ پڑھوائیں، صرف ایک بار نہیں، بلکہ بار بار۔ اسی کے ساتھ وہ کوشش کریں کہ اُن کے بچے ہمارے یہاں کے تیار شدہ آڈیو اور ویڈیو دیکھیں اور سنیں۔ یہ تمام آڈیو اور ویڈیو ہماری ویب سائٹ (www.cpsglobal.org) پر دستیاب ہیں۔ مزید یہ کہ دہلی میں ہونے والا ہمارا ہفتے وار لکچر کا پروگرام پابندی کے ساتھ سنیں، جو کہ ہر سنیچر کو شام پانچ بجے (IST) اور ہر اتوار کی صبح کو ساڑھے دس بجے (IST) شروع ہوتا ہے۔ ان دونوں پروگراموں کو فیس بک (/www.facebook.com/maulanawkhan) پر لائیو دیکھا جا سکتا ہے۔

4- یہ لازمی نوعیت کا ابتدائی پروگرام ہے۔ جو والدین اپنے بچوں کی اصلاح و تربیت کے خواہشمند ہوں، اُن کو اسے اختیار کرنا چاہیے۔ اگر وہ اس کو اختیار نہ کریں تو کوئی بھی جادوئی تدبیر بچوں کی اصلاح کے لیے کارآمد نہیں ہو سکتی۔

☆☆☆☆☆

جولائی 1995 میں مراد آباد کا میرا ایک سفر ہوا۔ وہاں ایک صاحب نے بتایا کہ جو پیسہ والے مسلمان ہیں۔ ان سے اگر پوچھا جائے کہ تم اتنا زیادہ پیسہ کس لیے اکٹھا کر رہے ہو تو ان کا جواب یہ ہوتا ہے: اس لیے کہ بچے آرام سے رہیں۔ میں نے کہا کہ بچوں کے آرام کے لیے جو لوگ دولت اور جائداد اکٹھا کریں وہ خود اپنی اولاد کے لیے کوئی عقل مندی نہیں کر رہے ہیں۔ تجربہ یہ ہے کہ بے محنت کے ملی ہوئی دولت آدمی کے اخلاق کو بگاڑتی ہے۔ وہ اس کے اندر سطحیت، حتیٰ کہ آوارگی پیدا کر دیتی ہے۔ بچوں کے ساتھ سب سے پہلی خیر خواہی یہ ہے کہ ان کو اعلیٰ تعلیم دلائی جائے، اور اس کے بعد دوسری ضرورت یہ ہے کہ ان کو محنت کے راستے پر ڈالا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2019 All issues

Printed page