الرسالہ کا ایک سبق
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۹، صفحہ ۱۳
الرسالہ کا ایک سبق
عام طور پر الرسالہ میں آیت کا ترجمہ دیا جاتا ہے، مگر کبھی کبھی ترجمہ موجود نہیں ہوتا۔ ایسا بالقصد کیا جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ الرسالہ کے قاری براہ راست طور پر قرآن سے مربوط ہوں۔ آپ جانتے ہیں کہ اس زمانے میں چھپا ہوا با ترجمہ قرآن ہر گھر میں موجود رہتا ہے۔ اور اگر بالفرض کسی کے گھر میں با ترجمہ قرآن موجود نہ ہو تو اس کو پہلی فرصت میں با ترجمہ قرآن حاصل کر کے اپنے گھر میں رکھنا چاہیے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ جب بھی الرسالہ کا قاری ایسی کسی آیت کو الرسالہ میں پڑھے تو وہ قرآن کھول کر حوالہ کے ذریعے مذکورہ آیت نکالے اور اس کو پڑھ کر اس آیت کا ترجمہ معلوم کرے۔ اس طرح اُس کے مطالعہ کا تاثر بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔
قرآن کی حیثیت زندگی کے معاملات میں ایک ریفرنس بک (reference book) کی ہے ۔ پرنٹنگ پریس سے پہلے ایسا ہوتا تھا کہ اکثر مسلمان قرآن کے حافظ ہوتے تھے۔ جب بھی کوئی معاملہ پیش آتا، تو وہ اپنے حافظے کی مدد سے قرآن کی اس آیت تک پہنچ جاتے اور اُس سے اپنے لیے رہنمائی حاصل کرتے۔ اب پرنٹنگ پریس کا زمانہ ہے اور با ترجمہ قرآن کے نسخے چھے ہوئے تقریباً ہر گھر میں موجود ہیں، اور بالفرض اگر کسی کے گھر میں با ترجمہ قرآن موجود نہ ہو تو بہت آسانی کے ساتھ وہ اس کو قریبی مارکیٹ سے حاصل کر سکتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ الرسالہ کا ہر قاری قرآن کو اپنے لیے ایک ریفرنس بک بنا لے ۔ جب بھی قرآن کی کوئی آیت اس کے سامنے آئے تو خواہ وہاں اس کا ترجمہ موجود ہو یا موجود نہ ہو، ہر حال میں وہ اس آیت کو اپنے با ترجمہ قرآن میں براہ راست دیکھے۔ اس طرح اس کا تعلق قرآن سے بڑھے گا اور اس کے یقین میں اضافہ ہوگا۔ الرسالہ محض ایک ماہ نامہ پرچہ نہیں، وہ ایک دینی تحریک ہے۔ الرسالہ کا مقصد یہ ہے کہ قرآنی خطوط پر لوگوں کی ذہنی تربیت کی جائے۔ یہ مقصد اس وقت پورا ہوتا ہے جب کہ الرسالہ کے قارئین الرسالہ کو قرآن سے ملا کر پڑھیں ۔ میرا مشورہ ہے کہ قارئین الرسالہ ہمارے یہاں کی چھپی
‹ Previous page Next page › Contents of January 2019 All issues