الرسالہ کا ایک سبق
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۹، صفحہ ۱۴
ہوئی تفسیر تذکیر القرآن کا ایک نسخہ اپنے پاس رکھیں۔ آپ تذکیر القرآن کا مطالعہ الگ سے بھی کریں اور رسالہ کو پڑھتے ہوئے بھی جہاں کوئی آیت آئے تو اس کو بھی تذکیر القرآن سے ملا کر دیکھیں۔ اس طرح آپ کے مطالعہ کی دینی افادیت بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔
الرسالہ کوئی ایسی چیز نہیں کہ وقت گزاری کے طور پر اس کو پڑھ لیا جائے۔ الرسالہ ایک تحریک ہے۔ الرسالہ کی اس تحریکی نوعیت کا تقاضا ہے کہ اس کو باقاعدہ اور منظم مطالعے کے انداز میں پڑھا جائے۔ الرسالہ کے مطالعے کو مکمل ذہنی سرگرمی کا ذریعہ بنا دیا جائے۔ مجھے کئی بار یہ تجربہ ہوا ہے کہ ایک شخص مجھ سے ملے گا۔ وہ چند گھنٹے میرے ساتھ گزارے گا، پھر جاتے ہوئے وہ کہے گا کہ میں برسوں سے ماہ نامہ الرسالہ اور آپ کی کتابیں پڑھ رہا تھا اور اس سے متاثر تھا، لیکن چند گھنٹہ آپ کی صحبت میں بیٹھنے سے جو فائدہ ہوا، وہ برسوں تک الرسالہ اور کتابیں پڑھنے سے نہیں ہوا تھا۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اکثر لوگ ماہ نامہ الرسالہ کو صرف انٹرسٹ ریڈنگ (interest reading) کے لیے پڑھتے ہیں۔ اس کا اندازہ اس طرح ہوتا ہے کہ جب اُن سے پوچھا جائے کہ آپ الرسالہ کیوں پڑھتے ہیں، تو وہ کہیں گے کہ اُس میں نئی نئی معلومات ہوتی ہیں۔ اس کا اسلوب منفرد ہے۔ اس میں چھوٹے چھوٹے واقعات سے بڑے بڑے نتائج نکالے جاتے ہیں، وغیرہ۔ جو لوگ اس قسم کی بات کہتے ہیں، وہ ابھی تک صحیح معنوں میں الرسالہ کے قاری نہیں بنے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو صحبت سے جو چیز ملتی ہے، وہ ان کو الرسالہ کے مطالعے سے نہیں ملتی۔ الرسالہ کے مطالعے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کو کئی بار پڑھا جائے۔ اگر ممکن ہو تو اس کے حوالوں کو دوبارہ اصل کتاب میں دیکھا جائے۔ الرسالہ کے مضامین پر علمی انداز میں باہم مذاکرہ کیا جائے۔ مزید غور و فکر کے ذریعے سطور کے درمیان اس کے بین السطور کو جاننے کی کوشش کی جائے۔ جو لوگ اس طرح الرسالہ کا مطالعہ کریں، ان کے لیے الرسالہ کا مطالعہ، ایک زندہ مطالعہ بن جائے گا۔ جو چیز انھوں نے ’’صحبت‘‘ کے ذریعے پائی تھی، وہ اس کو الرسالہ کے مطالعے کے دوران پالیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2019 All issues