Al-Risala · April 2019 · page 6

میں خدا کو پانا چاہتا ہوں

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۹، صفحہ ۶

آپ سوچیے کہ جب آپ ماں کے پیٹ میں تھے، اسی وقت آپ کی ضرورت کی تمام چیزوں کی سپلائی باقاعدہ طور پر شروع ہو گئی تھی۔ یہ کون تھا، جس نے آپ کے لیے آپ کی ضروریات کی کامل فراہمی کا انتظام کیا۔ پھر جب آپ ماں کے پیٹ سے نکلے، تو آپ نے پایا کہ آپ کے لیے یہاں مکمل معنوں میں ایک لائف سپورٹ سسٹم (life support system) موجود ہے۔ پھر جب آپ بڑے ہوئے، اور آپ دنیا میں چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو آپ نے پایا کہ پوری یونیورس آپ کے لیے کسٹم میڈ یونیورس (custom-made universe) ہے۔ اس قسم کے تجربات جو آپ کو ہر لمحہ پیش آتے ہیں، وہ گویا ملی ہوئی چیز کو آپ کے لیے ایک دریافت کردہ حقیقت (discovered reality) بنا رہے ہیں۔

میں جب پہلی بار امریکا گیا، تو وہاں ایرپورٹ کے باہر نکلتے ہوئے میں نے جو پہلی چیز دریافت کی، وہ یہ تھی کہ کیسا عجیب ہے وہ خالق جس نے میرے لیے زندگی بخش آکسیجن کی سپلائی کا نظام انڈیا میں بھی قائم کر رکھا تھا، اور امریکا میں بھی اس کا تسلسل بلا انقطاع جاری ہے۔ یہ تاثر اتنا شدید تھا کہ میں نے چاہا کہ میں روڈ پر اپنے خالق کے لیے سجدے میں گر پڑوں۔ اسی طرح دوسرے تمام تجربات ہر لمحہ میرے لیے خدا کی یاد کے ریمائنڈر بنے رہتے ہیں۔ یہی وہ یاد دلانے والے واقعات ہیں، جن کا ذکر قرآن کی اس آیت میں آیا ہے: وَکَاَيِّنْ مِنْ اٰيَةٍ فِی السَّمَاوَاتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ (12:105)۔ یعنی اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر ان کا گزر ہوتا رہتا ہے اور وہ ان پر دھیان نہیں کرتے۔

جو لوگ صبح و شام ان نشانیوں کے درمیان زندگی گزاریں، مگر ان کا حال یہ ہو کہ ان کے پاس دماغ ہو مگر وہ نہ سوچیں، ان کے پاس آنکھیں ہو مگر وہ نہ دیکھیں، ان کے پاس کان ہو مگر وہ نہ سنیں، ایسے لوگ خالق کے نزدیک اندھے بہرے ہیں۔ ان کو صرف قیامت کا انتظار کرنا چاہیے۔ کیوں کہ صور اسرافیل کے سوا کوئی اور چیز نہیں ہے، جو ان کو غفلت کی نیند سے جگائے۔ خالق کی معرفت کوئی سادہ چیز نہیں۔ خالق کی معرفت جنت الفردوس کی قیمت ہے۔ جنت

‹ Previous page Next page › Contents of April 2019 All issues

Printed page