سیکولر معرفت، ربانی معرفت
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۹، صفحہ ۱۰
سیکولر معرفت، ربانی معرفت
امریکا کے مشہور مشنری بلی گراہم (2018-1918) نے لکھا ہے کہ ایک بار امریکا کے ایک مشہور سیاست داں نے اس کو لکھا کہ وہ فوری طور پر اس سے ملے۔ جب بلی گراہم اس سے ملا، تو دونوں ایک کمرے میں اکٹھا ہوئے۔ اس وقت سیاست داں نے بلی گراہہم سے کہا : You see, I am an old man. Life has lost all meaning. I am ready to take a fateful leap into the unknown. Young man, can you give me a ray of hope. (The Secret of Happiness, by Billy Graham, p. 2)
یہ موت کے بارے میں ایک ایسا قول ہے، جس کو موت کی سیکولر معرفت کہا جا سکتا ہے۔ دوسرا واقعہ جو موت کی ربانی معرفت کا واقعہ ہے، وہ ایک حدیث سے اس طرح معلوم ہوتا ہے : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى شَابٍ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ، فَقَالَ: كَيْفَ تَجِدُكَ؟ ، قَالَ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَرْجُو اللَّهَ، وَإِنِّي أَخَافُ ذُنُوبِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَوْطِنِ إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ مَا یَرْجُو وَآمَنَهُ مِمَّا يَخَافُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 983)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان کے پاس گئے، جب کہ وہ مرض الموت میں تھا۔ آپ نے پوچھا: تم اپنے کو کیسا پاتے ہو۔ اس نے کہا: خدا کی قسم، اے اللہ کے رسول، میں اللہ سے امید رکھتا ہوں، اور اپنے گناہوں سے ڈرتا ہوں، آپ نے کہا: کسی بھی بندے کے دل میں اس قسم کے موقع پر یہ دونوں باتیں جمع ہوں، تو اللہ ضرور اس کو وہ عطا کرے گا، جس کی وہ امید کرتا ہے، اور اس کو امن دے گا، جس سے وہ خوف کھاتا ہے۔ موت ہر انسان کے لیے ایک معلوم واقعہ ہے۔ فرق یہ ہے کہ سیکولر انسان موت کو زندگی کے خاتمے کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس کے برعکس، ربانی انسان موت پر اس یقینی لمحے کے طور پر دیکھتا ہے، جب کہ بندے کی ملاقات اس کے رب سے ہوگی۔ یہ لمحہ اس کے لیے بیک وقت دو کیفیات کا لمحہ ہوتا ہے— ایک طرف اللہ کی رحمت، اور دوسری طرف اللہ کا خوف۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2019 All issues