Al-Risala · April 2019 · page 9

انسان کے لیے سبق

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۹، صفحہ ۹

انسان کے لیے سبق

قرآن میں ایک بات ان الفاظ میں آئی ہے: بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ، وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِیرَهُ (75-14-15) ۔ یعنی بلکہ انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے، چاہے وہ کتنے ہی بہانے پیش کرے ۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی تخلیق اس انداز میں ہوئی ہے کہ اگر وہ عذر (excuse) کا شکار نہ ہو، تو وہ خود اپنی تخلیق پر غور کر کے بڑی بڑی باتیں سیکھ سکتا ہے۔ اس کی زندگی خود ایک لائبریری ہے۔ اپنے مطالعہ سے خود وہ اپنے لیے بڑے بڑے سبق دریافت کر سکتا ہے۔

مثلاً انسان جب اس کائنات کو دیکھتا ہے، تو اس کو یہ نظر آتا ہے کہ پوری کائنات نہایت منصوبہ بند انداز میں چل رہی ہے۔ مثلاً سورج ہمیشہ ٹھیک اپنے وقت پر نکلتا ہے، اور ٹھیک متعین وقت پر غروب ہو جاتا ہے۔ اسی طرح پوری کائنات زیرو ڈیفیکٹ مینجمنٹ کے اصول پر چل رہی ہے۔ اس کے برعکس، انسان کے نظام میں ہمیشہ نقائص موجود رہتے ہیں۔ انسان اگر اس معاملے کا مطالعہ تقابلی انداز میں کرے، تو وہ خود اپنے مطالعہ کے ذریعے خدائے برتر کے وجود کو دریافت کرلے گا۔ یہ دریافت اس کو یہ کہنے پر مجبور کر دے گی: أَفِي اللَّهِ شَكٍّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (14:10) ۔ یعنی کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کو وجود میں لانے والا ہے۔ اگر آدمی کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ قرآن وحدیث کی باتو ں کو اپنے الفاظ میں ڈھال سکے، تو اس کی دریافت اس کے لیے ری ڈسکوری (rediscovery) بن جاتی ہے۔ وہ مذکور باتوں کو زیادہ مؤثر انداز میں دریافت کرنے لگتا ہے۔ مثلاً قرآن میں آیا ہے: وَآتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ (14:34) یعنی اس نے تم کو ہر اس چیز میں سے دیا جو تم نے مانگا۔ اگر آپ کے پاس اپنے مطالعے کے مطابق، یہ لفظ موجود ہو کہ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے، جو ہیومن فرینڈلی دنیا ہے۔ اس کا احساس شکر بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2019 All issues

Printed page