Al-Risala · April 2019 · page 13

لو پروفائل میں کام کرنا

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۹، صفحہ ۱۳

لو پروفائل میں کام کرنا

قرآن کی ایک آیت میں پیغمبر یعقوب کی اپنے بیٹوں کو نصیحت ان الفاظ میں آئی ہے: يَابُنَيَّ لَا تَدْخُلُوا مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ وَادْخُلُوا مِنْ أَبْوَابٍ مُتَفَرِّقَةٍ (12:67)۔ یعنی اے میرے بیٹو! تم سب ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا۔

قرآن کی اس آیت میں تدبیر کار کا ایک طریقہ معلوم ہوتا ہے۔ وہ طریقہ فقہ کی اصطلاح میں غیر جہری طریقہ ہے۔ یعنی اپنا مشن اس انداز میں چلانا کہ فریق ثانی اس کو اپنے لیے خطرہ نہ سمجھے۔ وہ آخر وقت تک کام کرنے والوں کو کام کرنے کا موقع دے۔ اس طریق کار کو اگر جدید اسلوب میں بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ لوپروفائل (low profile) میں کام کرنا۔ یعنی کام کو ایسے انداز میں کرنا جس سے فریق ثانی اس کو اپنے لیے چیلنج نہ سمجھے، اور اس طرح کام کرنے والوں کو آخر وقت تک کام کرنے کا موقع ملتا رہے۔ اس کے مقابلے میں جو طریقہ ہے، اس کو ہائی پروفائل کا طریقہ کہا جاتا ہے۔ ہائی پروفائل میں فریق ثانی فوراً ہی چوکس ہو جاتا ہے، اور جوابی کارروائی شروع کر دیتا ہے۔ جب کہ لو پروفائل میں فریق ثانی کام کو اپنے لیے خطرہ نہیں سمجھتا۔ اس بنا پر اس کو نظر انداز کرتا رہتا ہے۔

اس طریق کار کے لیے حدیث رسول میں ایک حوالہ موجود ہے۔ پیغمبر اسلام نے جب مکہ کی فتح کا ارادہ کیا تو آپ نے اس معاملے میں بہت زیادہ لو پر فائل سے کام لیا۔ سیرت ابن ہشام میں اس واقعے کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے: وأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بالجهاز، وأمر أهله أن يجهزوه، فدخل أبو بكر على ابنتہ عائشة رضي الله عنها، وهي تحرك بعض جهاز رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: أي بنية : أأمركم رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تجهزوه؟ قالت: نعم، فتجهز، قال: فأين ترينه يريد؟ قالت: (لا) والله ما أدري. ثم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أعلم الناس أنه سائر إلى مكة، وأمرهم بالجد و التهيؤ، وقال:

‹ Previous page Next page › Contents of April 2019 All issues

Printed page