لو پروفائل میں کام کرنا
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۹، صفحہ ۱۴
اللهم خذ العيون والأخبار عن قريش حتى نبغتها في بلادها (سیرت ابن ہشام، یعنی رسول اللہ ﷺ نے تیاری کا حکم دیا۔ اور اپنی اہلیہ کو کہا کہ وہ اس کے سفر کی تیاری کا کام کرے ۔ جب ابو بکر اپنی بیٹی عائشہ کے پاس آئے ، اس وقت وہ رسول اللہ کے سفر کی کچھ تیاری کا کام کر رہی تھیں ، تو پوچھا: بیٹی رسول اللہ نے کسی سفر کی تیاری کا حکم دیا ہے۔ عائشہ نے کہا: ہاں، سامان سفر کی تیار کرنے کا۔ ابوبکر نے پوچھا، تمھارے خیال سے کہاں کا ارادہ ہے۔ عائشہ نے کہا، اللہ کی قسم مجھے نہیں معلوم۔ پھر رسول اللہ نے لوگوں کو خبر دیا کہ وہ مکہ کی طرف کوچ کرنے والے ہیں، اور ان کو تیاری کا حکم دیا۔ اس وقت یہ دعا کی : اللہ، تو قریش کی آنکھوں اور خبروں کو روک دے۔ یہاں تک کہ تو ہم کو ان کے شہر میں پہنچادے۔
خلاصہ یہ ہے کہ کام کا ایک طریقہ شور وغل کے ساتھ کام کرنا ہے، اور دوسرا طریقہ ہے حکیمانہ طریقہ۔ شور وغل کے ساتھ کام کرنا نبی کا طریقہ نہیں۔ نبی کا طریقہ وہ ہے، جس میں خاموش تدبیر کا انداز اختیار کیا گیا ہو۔ کامیابی ہمیشہ خاموش تدبیر والے کام میں ہوتی ہے، نہ کہ شور وغل والے طریقے میں۔ ☆☆☆☆☆☆☆ انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے اندر بیک وقت دو آزادانہ نظام قائم ہیں— انا (ego)، اور دوسرا ضمیر (conscience)۔ یہ دونوں نظام ایک دوسرے سے آزاد ہیں۔ انسان کے اندر انا (ایگو) کا نظام پوری طرح آزاد ہے، اور آزادی کے تحت وہ خود جیسا چاہے، اس کے مطابق، فیصلہ لے سکتا ہے، یعنی صحیح بھی اور غلط بھی۔ لیکن ضمیر کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اس کے کنٹرول کا نظام بالکل الگ ہے۔ ضمیر اگر چہ انسان کی شخصیت کا ایک حصہ ہے، اور اپنے عمل میں وہ پوری طرح آزاد ہے۔ انسان اگر اپنی زندگی میں صحیح راستہ اختیار کرے، تو ضمیر خاموش زبان میں اس کی تصدیق کرتا ہے، اور اگر انسان غلط راستے پر چل پڑے تو ضمیر فوراً اس کو وارننگ دیتا ہے کہ تم غلط راستے پر چل پڑے ہو، اور غلط راستے پر چلنے کا انجام اس سے مختلف ہوگا، جو صحیح راستے پر چلنے کا ہوتا ہے۔ ضمیر کا نظام گویا ایک غیبی آواز ہے، جو بروقت انسان کی رہنمائی کے لیے متحرک ہو جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2019 All issues