Al-Risala · April 2019 · page 15

فارم ، اسپرٹ

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۹، صفحہ ۱۵

فارم ، اسپرٹ

عباسی دور میں فقہ کی تدوین ہوئی۔ صحابہ کے دور اور تابعین کے دور میں عام طور پر مبنی بر اسپرٹ دین کا تصور پایا جاتا تھا، لیکن فقہاء کے دور میں بعض اسباب سے مبنی بر فارم دین کا تصور عام ہوگیا۔ یہاں تک کہ اس بارے میں لوگ غلو (انتہا پسندی) کی حد تک پہنچ گئے۔ صحابہ اور تابعین کے زمانے میں دین میں اصل اہمیت اسپرٹ کی ہوتی تھی۔ اس بنا پر اس زمانے میں جزئی نوعیت کے طریق عبادت میں تنوع کا تصور پایا جاتا تھا۔ یہ تصور اس حدیث پر مبنی تھا: أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ فَبِأَیِّہِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ (جامع بیان العلم و فضله، حدیث نمبر 1684)۔ یعنی میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں، تم ان میں سے جن کی بھی اقتدا کرو گے، ہدایت پر رہو گے۔ لیکن بعد کے زمانے میں جب کہ طریق عبادت میں تعدد کا ذہن ختم ہو گیا، اور فارم میں تو حد پر زور دیا جانے لگا تو اس قسم کا ذہن ختم ہو گیا۔ مگر یہ طریقہ بلا شبہ درست طریقہ نہیں۔ کیوں کہ اس روایت کے علاوہ بھی ایسی صحیح روایتیں ہیں، جس میں تعدد کا ثبوت ملتا ہے۔ مثلاً رسول اللہ کے زمانے میں ایک صحابی کا بلند آواز سے کہنا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْداً كَثِيراً طَيِّباً مُبَارَكاً فِيهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 799)۔ روایت کے مطابق، یہ کلمہ سن کر آپ نے اس کی تحسین کی، جب کہ رسول اللہ نے اس کی تعلیم نہیں دی تھی۔

حقیقت یہ ہے کہ عبادت کے جزئی طریقوں میں اسپرٹ اصل ہے۔ اس معاملے میں اگر اسپرٹ کو اصل مانا جائے تو اپنے آپ فرقہ بندی کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر عبادت کے جزئی طریقوں میں فارم پر زور دیا جانے لگے تو فرقہ بندی کا دروازہ کھل جاتا ہے، جو کبھی بند نہیں ہوتا۔ عہد رسالت میں عبادت کا صرف ایک تصور پایا جاتا تھا، وہ ہے مبنی بر اسپرٹ عبادت۔ مبنی بر فارم عبادت کا تصور بعد کے زمانے میں پیدا ہوا، اور پھر تاریخ میں عام ہو گیا۔ تا ہم مبنی بر اسپرٹ عبادت ہی اصل عبادت ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2019 All issues

Printed page