Al-Risala · April 2019 · page 17

اظہار دین

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۹، صفحہ ۱۷

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اِس انقلابی صفت کا اعتراف مختلف مورخین نے کھلے طور پر کیا ہے۔ فرانس کا مورخ ہنری پرین (Henri Pirenne) 1862 میں پیدا ہوا، اور 1935 میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے اسلام اور پیغمبرِ اسلام کے موضوع پر کئی کتابیں شائع کی ہیں۔ اُس نے لکھا ہے کہ۔ اسلام نے دنیا کا نقشہ بدل دیا۔ اس کے بعد روایتی دور تاریخ کا خاتمہ ہو گیا: It (Islam) had sufficed to change the face of the globe. Wherever it had passed the ancient States, which were deeply rooted in the centuries, were overturned as by a cyclone; the traditional order of history was overthrown. (Henri Pirenne: A History of Europe, London, 1939, p. 46). کار نبوت کا تسلسل پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے جو انقلاب آیا، اُس کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ پیغمبر کے بغیر کارِ نبوت کا تسلسل جاری رہے۔ پچھلے پیغمبروں کے زمانے میں ایسا ہوتا تھا کہ پیغمبر پر نازل ہونے والی وحی پیغمبر کے بعد محفوظ نہیں رہتی تھی، اِس لیے بار بار خدا کی طرف سے پیغمبر بھیجے جاتے رہے۔ لیکن پیغمبرِ اسلام کے ذریعے یہ ہوا کہ آپ کے اوپر نازل ہونے والی وحی (قرآن) پوری طرح محفوظ ہو گئی ۔ آپ کی زندگی بھی تاریخی طور پر مدوّن ہو گئی ۔ اس لیے آپ کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ کوئی شخص جو گہرے طور پر پیغمبر کے مشن سے اپنے آپ کو وابستہ کرے، وہ اپنے زمانے میں پیغمبر کا نمائندہ بن جائے ۔

یہی بات حدیثِ رسول میں اس طرح بتائی گئی ہے : اِنَّ العُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ (سنن الترمذی ، حدیث نمبر 2682) یعنی علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَأَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ (المقاصد الحسنہ ، حدیث نمبر 702)۔ یعنی میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی مانند ہیں۔

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے دینِ خداوندی کے تمام اجزا محفوظ ہو گئے، جو دین

‹ Previous page Next page › Contents of April 2019 All issues

Printed page