Al-Risala · April 2019 · page 18

اظہار دین

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۹، صفحہ ۱۸

پہلے زندہ شخصیتوں کی سطح پر ہوتا تھا، وہ اب مستند کتابوں کی شکل میں محفوظ ہو گیا، اس طرح امت کی بعد کی نسلوں میں اٹھنے والے افراد کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ کارِ نبوت کا تسلسل دوبارہ زندہ حالت میں جاری کر سکیں:

Without being a prophet, one can play the prophetic role. خالق کا تخلیقی پلان یہ ہر انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ وہ جانے کہ پیدا کرنے والے نے اُس کو کس لیے پیدا کیا ہے۔ اُس کا مقصد تخلیق کیا ہے۔ اس کے لیے کامیابی کیا ہے اور ناکامی کیا۔ ہر عورت اور مرد اس سوال سے لازمی طور پر دوچار ہوتے ہیں، خواہ شعوری طور پر یا غیر شعوری طور پر۔ اس سوال کا معتبر جواب صرف خالق دے سکتا ہے۔ یہ صرف خالق ہے جو یہ بتا سکتا ہے کہ انسان اور کائنات کو پیدا کرنے سے اُس کا منصوبہ تخلیق (creation plan) کیا ہے۔ قرآن اور پیغمبر قرآن کے ذریعے خدا نے اس سوال کا معتبر جواب فراہم کیا ہے۔ اب ہر انسان کے لیے ممکن ہو گیا کہ وہ خدا کے تخلیقی پلان کو جانے:

It became possible for everyone to know the creation plan of God. پہلے زمانے میں حنفاء ہوا کرتے تھے، یعنی متلاشی حق۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ممکن ہو گیا کہ کوئی شخص اپنی تلاشِ حق کو دریافتِ حق بنا سکے:

Truth-seekers no longer need to live in bewilderment. نشانیوں کا ظہور قرآن کی سورہ حم السجدہ میں بعد کی تاریخ کے لیے ایک پیشین گوئی ان الفاظ میں آئی ہے : سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی مستقبل میں ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، کائنات میں بھی اور انسان کے اندر بھی، یہاں تک کہ اُن پر پوری طرح

‹ Previous page Next page › Contents of April 2019 All issues

Printed page