Al-Risala · April 2019 · page 20

اظہار دین

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۹، صفحہ ۲۰

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی زندگی میں آپ کو اتنا کم سمجھا گیا کہ مکہ کے مخالفین آپ کو مذمّم (condemned person) کہنے لگے۔ لیکن آخر کار تاریخ آپ کے موافق ہوگئی۔ عام طور پر مؤرخین اور مبصرین آپ کی عظمت کا اعتراف کرنے لگے۔ ان میں سے ایک مثال امریکا کے ڈاکٹر مائیکل ہارٹ (Michael H. Hart) کی ہے۔ انھوں نے تمام دنیا کی مشہور شخصیتوں کا مطالعہ کر کے ایک ضخیم کتاب تیار کی۔ اُس کا عنوان ایک سو (The Hundred) ہے۔ اس کتاب میں پوری انسانی تاریخ کی ایک سو بڑی شخصیتوں کا تذکرہ ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں پیغمبر اسلام کو اس فہرست میں پہلے نمبر پر رکھا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے ــ محمد تاریخ کے پہلے شخص ہیں جو انتہائی حد تک کامیاب رہے، مذہبی سطح پر بھی اور دنیوی سطح پر بھی: He [Mohammad] was the only man in history who was supremely successful on both the religious and secular levels (Michael H, Hart: The 100, Carol, 1993, p. 3). اخوان رسول پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک قول میں یہ پیشین گوئی کی کہ بعد کے زمانے میں آپ کی امت میں ایسے افراد پیدا ہوں گے جو اخوان رسول قرار پائیں گے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 249)۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جنھوں نے پیغمبر اسلام کو دیکھا نہیں ہوگا، مگر اصحاب رسول کی طرح انھوں نے معرفت دین حاصل کیا:

Ikhwan-e-Rasool are those who share Sahaba-like experiences due to their deep realization. پچھلے پیغمبروں کے یہاں صرف اصحاب (Companions) ہوا کرتے تھے۔ یہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی استثنائی صفت ہے کہ آپ کی امت میں ایسے افراد پیدا ہوں گے جو اخوان (brothers) کا درجہ پائیں گے۔ ایسا صرف اس لیے ممکن ہوگا کہ پیغمبر اسلام کے بعد خدا کا دین نظریہ اور عمل دونوں اعتبار سے پوری طرح محفوظ ہوگیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2019 All issues

Printed page