Al-Risala · April 2019 · page 19

اظہار دین

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۹، صفحہ ۱۹

یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے۔

قدیم زمانے میں جو انبیا آئے، انھوں نے خرق عادت معجزے دکھائے۔ یہ معجزے اُن کے معاصرین کے لیے اُن کے پیغمبر ہونے کی دلیل تھے۔ حسّی معجزہ معاصرین کے لیے دلیل ہوتا ہے، بعد کے لوگوں کے لیے وہ دلیل نہیں ہوتا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے آخری پیغمبر تھے، یعنی قیامت تک کے لیے پیغمبر۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ آپ کی وفات کے بعد بھی آپ کے پیغام کی پیغام رسانی اہلِ عالم کے لیے جاری رہے گی۔

یہ کام اس طرح انجام پایا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے انقلاب کے ذریعے تاریخ میں ایک ایسا عمل جاری ہوا جس کے نتیجے میں فطرت کے قوانین دریافت ہوئے۔ یہ قوانین فطرت معجزہ کا بدل بن گئے۔ ان قوانین کے ذریعے یہ ممکن ہو گیا کہ بعد کے زمانے میں سائنسی دلائل کی طاقت سے وہ دعوتی کام انجام دیا جا سکے جو پہلے معجزہ کی طاقت سے انجام دیا جاتا تھا، گویا کہ پیغمبر اسلام سے پہلے دعوت بذریعہ معجزہ (dawah through miracle) کا زمانہ تھا۔ اور اب دعوت بذریعہ علمی دلائل (dawah through scientific argument) کا زمانہ ہے۔

قرآن کی سورہ الاسراء میں پیغمبر اسلام کے بارے میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ: عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَاماً مَّحْمُوداً (17:79) یعنی قریب ہے کہ تمھارا رب تم کو مقامِ محمود پر کھڑا کرے ۔ اس آیت میں مقامِ محمود کسی پر اسرار واقعے کا نام نہیں ہے۔ اٌس سے مراد ایک معلوم واقعہ ہے جو تاریخ میں مسلمہ طور پر پیش آیا۔ پیغمبر اسلام سے پہلے جو پیغمبر آئے، وہ مستند تاریخ میں ریکارڈ نہ ہو سکے۔ پیغمبروں کی فہرست میں پیغمبر اسلام پہلے پیغمبر ہیں جو مستند تاریخ میں درج کیے گئے۔ ایک مغربی مؤرخ نے اس کا اقرار ان الفاظ میں کیا ہے محمد تاریخ کی کامل روشنی میں پیدا ہوئے: Muhammad was born within the full light of history. حقیقت یہ ہے کہ نہی محمود سے مراد ہی معترف (acknowledged Prophet) ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2019 All issues

Printed page