Al-Risala · April 2019 · page 34

دورِ اول کی مثال

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۹، صفحہ ۳۴

طبی کتابوں پر مشتمل تھا جو عربی زبان سے لاطینی زبان میں ترجمہ کی گئی تھیں ۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1984) نے اس کے تذکرہ کے ذیل میں لکھا ہے کہ یورپ میں بارہویں صدی نے عربی سے لاطینی میں کتابوں کے ترجمہ کا ایک ہیرو دوانہ پروگرام دیکھا۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ یورپ کا ابتدائی طبی اسکول جوسلرنو میں قائم ہوا اور دوسرا جو مانٹ پیلییر میں قائم ہوا، دونوں عربی اور یہودی ماخذوں سے بہت قریب تھے:

The 12th Century saw a heroic program of translation of works from Arabic to Latin. It is significant that the earliest medical school in Europe was at Salerno and that it was later rivaled by Montpellier, also close to Arabic and Jewish sources (16/368)

پروفیسر ہٹی نے اس سلسلہ میں مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ الزہراوی کی کتاب (التصريف لمن اعجز عن التالیف) کا سرجری سے متعلق حصہ گیرارڈ آف کریمونا نے عربی سے لاطینی میں ترجمہ کیا۔ یورپ میں اس کے مختلف ایڈیشن چھپے ۔ وینس میں 1497 میں، بیسل میں 1541 میں، آکسفورڈ میں 1778 میں۔ یہ ترجمہ صدیوں تک سلر نو اور مانٹ پیلییر اور دوسرے یورپی طبی اداروں میں نصاب تعلیم کا جز بنارہا:

This surgical part was translated into Latin by Gerard of Cremona and various editions were published at Venice in 1497, at Basel in 1541 and at Oxford in 1778. It held its place for centuries as the manual of surgery in Salerno, Montpellier and other early schools of medicine (P. K. Hitti, History of the Arabs. 1979, p. 577)

آج آپ جدید طرز کے کسی اسپتال یا کسی میڈیکل کالج میں داخل ہوں تو وہاں کی ہر چیز آپ کو مغربی تہذیب کا عطیہ نظر آئے گی۔ مگر چند سو سال پہلے یہ حال تھا کہ آپ وقت کے کسی معیاری اسپتال یا کسی میڈیکل کالج میں داخل ہوں تو وہاں کی ہر چیز اسلامی تہذیب کا عطیہ نظر آتی تھی۔ یہ ہے وہ بنیادی فرق جو مسلمانوں کے ماضی اور ان کے حال میں پیدا ہو گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2019 All issues

Printed page