Al-Risala · April 2019 · page 35

دورِ اول کی مثال

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۹، صفحہ ۳۵

2- جغرافیہ ایک بے حد اہم سائنس ہے۔ اس کا تعلق زندگی کے بے شمار شعبوں سے ہے۔ دور اول کے مسلمانوں نے اس فن میں بھی کمال پیدا کیا۔ مثال کے طور پر الادریسی اپنے زمانہ میں دنیا کا سب سے بڑا جغرافی عالم تھا۔ پروفیسر فلپ ہٹی نے اس کی بابت حسب ذیل الفاظ لکھے ہیں: The most distinguished geographer of the Middle Ages. یعنی قرون وسطیٰ کا سب سے زیادہ ممتاز جغرافیہ داں۔ الادریسی کے زمانہ میں راجر دوم سسلی کا بادشاہ تھا۔ اس کو ایک جغرافی نقشہ کی ضرورت ہوئی تو اس کو یہ نقشہ جس نے بنا کر دیا وہ یہی الادریسی تھا۔ فلپ ہٹی نے مزید لکھا ہے:

The most brilliant geographical author and cartographer of the twelfth century, indeed of all medieval time, was al-Idrisi, a descendant of a Spanish Arab family who got his education in Spain. (P. K. Hitti, History of the Arabs, 1979, p. 568)

بارھویں صدی عیسوی کا سب سے زیادہ باکمال جغرافی مصنف اور نقشہ نویس، بلکہ پورے قرون وسطیٰ کا سب سے بڑا جغرافی عالم بلاشبہ الادریسی تھا۔ وہ اسپین کے ایک اعلیٰ عرب خاندان میں پیدا ہوا، اور اس کی تعلیم اسپین میں ہوئی۔

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1984) کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ الادریسی نے 1154ء میں سسلی کے مسیحی حکمراں (راجر دوم) کے لیے ایک عالمی نقشہ بنایا۔ اس میں ایشیائی علاقوں کی زیادہ بہتر معلومات دی گئی تھیں جو اس وقت تک ابھی انسان کو حاصل نہ ہوئی تھیں: Al-Idrisi constructed a world map in AD 1154 for the Christian king Roger of Sicily, showing better information on Asian areas than had been available theretofore. (11/472)

موجودہ زمانہ میں مسلم ملکوں میں مغرب کے ماہرین (experts) بھرے ہوئے ہیں۔ مگر ایک وقت تھا جب کہ مسلمان ہر شعبہ کے ماہرین دنیا کو فراہم کر رہے تھے۔ آج مسلمان دنیا والوں سے لے رہے ہیں، مگر چند سال پہلے یہ حال تھا کہ مسلمان دنیا کو دینے والے بنے ہوئے تھے۔ کیسا

‹ Previous page Next page › Contents of April 2019 All issues

Printed page