Al-Risala · April 2019 · page 36

دورِ اول کی مثال

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۹، صفحہ ۳۶

عجیب فرق ہے ماضی میں اور حال میں۔

3۔ آج مسلم ملکوں کے نوٹ اور سکے مغربی ممالک تیار کرتے ہیں۔ اور اگر کوئی مسلم ملک خود اپنا سکہ یا نوٹ تیار کرتا ہے تو اس کے لیے بھی وہ مغربی ٹیکنالوجی کا مرہون منت ہے۔ مگر ایک وقت تھا کہ یہ مقام خود مسلمانوں کو عالمی سطح پر حاصل تھا۔

پروفیسر ایچ۔ ڈبلیو۔ سی۔ ڈیوس (H.W.C. Davis) نے اپنی کتاب قرون وسطیٰ کا انگلستان (Medieval England) میں انگلستان کے ایک قدیم سنہرے سکہ کی تصویر اس کے دونوں رخ سے چھاپی ہے۔ یہ سکہ برٹش میوزیم میں رکھا ہوا ہے۔ تصویر میں واضح طور پر نظر آرہا ہے کہ سکہ کے ایک طرف عربی رسم الخط میں کلمہ شہادت لکھا ہوا ہے اور دوسری طرف اس وقت کے انگلستان کے بادشاہ او فاری کس (Offa Rex) کا نام کندہ ہے۔ اسی کے ساتھ سکہ پر بغداد کے مسلمان سکہ گر کا نام بھی درج ہے۔ سکہ کی تصویر کے نیچے پروفیسر ڈیوس نے حسب ذیل الفاظ لکھے ہیں: Anglo-Saxon gold coin imitating an Arab Dinar of the year 774. یعنی قدیم انگلستان کا سونے کا سکہ جو 774ء میں ڈھالا گیا اور جس میں ایک عرب دینار کی نقل کی گئی ہے۔ یہ ایک تاریخی شہادت ہے جو بتاتی ہے کہ آٹھویں صدی عیسوی میں مسلمان صنعتی ترقی کے اس مقام پر تھے کہ انگلستان کے نامور بادشاہ او فاکس (وفات: 796ء) کو ضرورت محسوس ہوتی تھی کہ وہ اپنے ملک کا سکہ ڈھالنے کے لیے بغداد سے مسلم ماہرین کو بلائے۔ اس وقت انگلستان میں جو سکہ ڈھالا گیا وہ مسلم ممالک کے سکہ (دینار) کی نقل تھا۔ حتیٰ کہ مسلم سکوں کی طرح اس پر کلمہ شہادت بھی عربی رسم الخط میں لکھا ہوا تھا۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہزار برس پہلے کے دور میں اسلامی تہذیب ساری دنیا میں کس قدر غالب حیثیت رکھتی تھی۔

2۔ واسکوڈی گاما (1524 - 1469) ایک پرتگالی ملاح تھا۔ اس کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس نے 1497 میں ہندوستان اور یورپ کے درمیان سمندری راستہ دریافت کیا جو کیپ آف گڈ ہوپ ہو کر جاتا تھا۔ مگر یہ عظیم کامیابی اس کو ایک عرب ملاح احمد بن ماجد کے ذریعہ حاصل ہوئی

‹ Previous page Next page › Contents of April 2019 All issues

Printed page