Al-Risala · April 2019 · page 39

The Sultan of Mozambique supplied da Gama two

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۹، صفحہ ۳۹

صنعتی دور (super-industrial Age) میں داخل ہوگئی ہے۔ Alvin Toffler, Future Shock, New York, 1971 مگر امت مسلمہ محفوظ آسمانی کتاب کی حامل ہے۔ اس نسبت سے وہ خود بھی ایک محفوظ امت ہے۔ اس محفوظیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جہاں مواقع بظاہر ختم ہو جائیں، وہاں بھی اس کے لیے ایک نیا موقع موجود رہتا ہے۔ خدا نے انسانیت کے لیے عام طور پر اور امت مسلمہ کے لیے خاص طور پر یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ ہر ڈس ایڈوانٹج کے ساتھ اس کے لیے ایک ایڈوانٹج ہمیشہ موجود ہے۔ یہی وہ ابدی حقیقت ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً (94:5-6)۔ یعنی پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت موجودہ زمانہ میں پوری طرح ظاہر ہو چکی ہے۔ سائنس اپنی ترقیوں کی انتہا پر پہنچ کر ایک ایسے سنگین مسئلہ سے دوچار ہے جس کا خود اس کے پاس کوئی حل نہیں۔ نہ سائنسی طبقہ سے باہر کوئی گروہ ایسا موجود ہے، جو اس مسئلے کا حل اسے دے سکے۔ یہ صرف مسلمان ہیں جو محفوظ آسمانی کتاب کے حامل ہونے کی وجہ سے اس پوزیشن میں ہیں کہ سائنسی طبقہ کو نیز پوری انسانیت کو اس مسئلہ کے حل کا تحفہ پیش کر سکیں۔

اس معاملہ کی نوعیت سمجھنے کے لیے یہاں میں انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984) کا ایک پیرا گراف نقل کروں گا۔ اس کے تاریخ سائنس (History of Science) کے مقالہ نگار نے اس سلسلہ میں لکھا ہے :

Until recently, the history of science was a story of success. The triumphs of science represented a cumulative process of increasing knowledge and a sequence of victories over ignorance and superstition and from science flowed a stream of inventions for the improvement of human life. The recent realization of deep moral problems within science of external forces and constraints on its development, and of dangers in uncontrolled technological change has challenged historians to a critical reassessment of this earlier simple faith. (16/366)

‹ Previous page Next page › Contents of April 2019 All issues

Printed page