Al-Risala · April 2019 · page 40

Man Does Not Stand Alone

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۹، صفحہ ۴۰

ابھی حال تک سائنس کی تاریخ کامیابیوں کی کہانی تھی۔ سائنس کی فتوحات میں یہ شمار ہوتا تھا کہ اس نے انسانی معلومات میں اضافہ کیا ہے اور جہالت اور توہم پرستی پر فتح حاصل کی ہے۔ سائنس سے ایجادات کا ایک سیلاب نکلا ہے جس نے انسانی زندگی کو بہتر بنایا ہے۔ مگر حال میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ سائنس گہرے اخلاقی سوالات سے دوچار ہے۔ بے قید ٹکنالوجی کے خطرات کی وجہ سے اس کی ترقی پر روک لگانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ یہ صورت حال مؤرخین کو چیلنج کر رہی ہے کہ وہ ان خیالات کا دوبارہ تنقیدی جائزہ لیں جو ابتدا میں سادہ طور پر قائم کر لیے گئے تھے۔ جدید دنیا کا یہی وہ خلا ہے جہاں مسلمان اپنے نفع بخش ہونے کا ثبوت دے سکتے ہیں، اور اس طرح دوبارہ اپنے لیے سرفرازی کا وہ مقام حاصل کر سکتے ہیں جو انھوں نے دنیا میں کھو دیا ہے۔ سائنس کی ابتدائی فتوحات نے بہت سے لوگوں کو اتنا زیادہ متاثر کیا کہ انھوں نے سمجھ لیا کہ اب ہمیں سائنس کے سوا کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ سائنس ہماری تمام ضرورتوں کے لیے کافی ہے۔ اس سلسلہ میں بے شمار کتابیں لکھی گئیں۔ جولین ہکسلے (1975– 1887) نے اس نقطہ نظر کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک کتاب شائع کی تھی جس کا نام تھا انسان تنہا کھڑا ہوتا ہے: Man Stands Alone اس کے جواب میں کریسی ماریسن (1946– 1884) نے ایک کتاب شائع کی جس کا نام با معنی طور پر یہ تھا انسان تنہا کھڑا نہیں ہو سکتا:

Man Does Not Stand Alone

بیسویں صدی کے نصف اول تک انسان کا یہ دعویٰ تھا کہ اس کی سائنس اس کے لیے کافی ہے۔ مگر اسی صدی کے نصف ثانی میں انسان کو اپنی رائے سے رجوع کرنا پڑا۔ اس سے پہلے جو بات کریسی ماریسن جیسے چند مستثنی افراد کہتے تھے، اب وہ عام طور پر لوگوں کی زبانوں سے کہی جارہی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کا اعتراف انسائیکلو پیڈیا بر ٹانیکا کے مذکورہ اقتباس میں کیا گیا ہے۔ جدید انسان کی ذہنی حالت کیا ہے، اس کا ایک نمونہ لارڈ برٹرینڈ رسل (1970– 1872)

‹ Previous page Next page › Contents of April 2019 All issues

Printed page