اسپرچول کلاس
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۹، صفحہ ۲۰
اسپرچول کلاس
پچھلے کئی سالوں سے میں دہلی میں اسپرچول کلاس (spiritual class) چلا رہا ہوں۔ اس کلاس میں انگریزی تعلیم یافتہ ہندو اور مسلمان شریک ہوتے ہیں۔ اسپرچول کلاس دراصل ایک خاص تصور اصلاح پر قائم ہے۔ اس کا آغاز اس طرح ہوا کہ دہلی کے کچھ انگریزی تعلیم یافتہ ہندو نوجوانوں کے اندر اسلام کو سمجھنے کا شوق پیدا ہوا۔ وہ انگریزی زبان میں اسلامی لٹریچر چاہتے تھے۔ ان کو دہلی کے کسی مسلمان نے بتایا کہ تم لوگ جماعت اسلامی کے دفتر جاؤ، وہاں تم کو اپنے مقصد کے مطابق کتابیں مل جائیں گی۔ چنانچہ وہ جماعت اسلامی کے مرکزی دفتر گئے اور وہاں کے ذمہ داروں سے ملے۔ انھوں نے ان ہندو نوجوانوں کو 15 کتابیں دیں۔ یہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی کتابوں کا انگریزی ترجمہ تھا۔ ان کتابوں کو پڑھنے کے بعد وہ دوبارہ جماعت اسلامی کے ذمہ داروں سے ملے۔ انھوں نے انھیں بتایا کہ آپ کی یہ کتابیں ہم نے پڑھیں، مگر یہ کتابیں ہمارے مائنڈ (mind) کو ایڈریس نہیں کرتیں:
These books do not address our mind
انھوں نے کہا کہ یہ کتابیں مسلم مائنڈ کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہیں جو پہلے ہی سے بطور عقیدہ اسلام کی سچائی کو مانتے ہیں۔ جب کہ ہمارا کیس یہ ہے کہ ہم اسلام کی سچائی کو بطور عقیدہ نہیں بلکہ بطور دلیل آبجیکٹیو طور پر سمجھنا چاہتے ہیں۔ ہم سچائی کے متلاشی ہیں اور ہم نے دوسرے مذہبوں اور فلسفوں کو پڑھا ہے اور اب ہم اسلام کو اس حیثیت سے پڑھنا چاہتے ہیں کہ کیا وہ عقلی بنیاد پر پورا اتر رہا ہے یا دوسرے مذہبوں کی طرح وہ بھی ایک عقیدہ (dogma) کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ نوجوان وہاں سے مایوس ہو کر واپس ہو گئے۔ پھر ان کی ملاقات جمیل احمد الیاسی سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میرے علم کے مطابق، دنیا میں صرف ایک ہی مسلم عالم ہے جس کی کتاب تم لوگوں کو مطمئن کر سکتی ہے۔ انھوں نے میرا نام بتایا۔ یہ نوجوان میرے پاس آئے۔ میں نے ان لوگوں
‹ Previous page Next page › Contents of January 2019 All issues