Al-Risala · January 2019 · page 21

These books do not address our mind

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۹، صفحہ ۲۱

کونہ صرف اپنی کتابیں پڑھنے کو دیں بلکہ ان کو اپنے ہفتہ وار اسپر پچول کلاس میں شامل کرلیا۔ اب اب یہ نو جوان مکمل طور پر اسلام کی صداقت پر مطمئن ہو چکے ہیں اور وہ ہمارے مشن کے باقاعدہ ممبر ہیں۔ اس تجربہ سے مجھے ایک نئی حقیقت دریافت ہوئی۔ مسلمانوں میں جو مصلحین اٹھے انھوں نے زیادہ تر جلسوں اور اجتماعات کو خطاب کرنے کا طریقہ اختیار کیا۔ گویا کہ ان کا طریقہ بھیڑ (crowd) کو ایڈریس کرنا تھا۔ مگر یہ تجربہ اپنے مقصد کے اعتبار سے نا کام رہا۔ اسپر پچول کلاس کے تجربہ کے ذریعہ مجھے معلوم ہوا کہ اصلاح یا قرآن کے الفاظ میں تزکیہ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ انفرادی ذہن کو ایڈریس کیا جائے۔ یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ اصلاح کا مقصد حقیقی طور پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس تجربہ کے ذریعہ میں نے ایک معلوم حقیقت کو دوبارہ دریافت کیا۔ وہ یہ کہ مشہور حدیث کے مطابق، ہر انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنی بے آمیز فطرت پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ہر انسان کو مسٹر نیچر کہا جا سکتا ہے۔ مگر اس کے بعد اس کا ماحول اس کو یہودی یا مجوسی یا نصرانی بنا دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ ایک کنڈیشنڈ کیس بن جاتا ہے۔ ایسی حالت میں سب سے پہلا کام ہر آدمی کی کنڈیشننگ کو توڑنا ہے۔ گویا کہ اصلاح و تزکیہ کا کام ذہن کی ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) سے شروع ہوتا ہے، نہ کہ عمومی تقریر یا وعظ خوانی سے۔ ہماری اسپر پچول کلاس میں جو ہند و نو جوان شریک ہوتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہم اس کلاس میں شرکت سے پہلے اسلام اور مسلمانوں سے سخت نفرت کرتے تھے۔ ہم یہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ اسلام ہمارے لیے کوئی پسندیدہ مذہب بن سکتا ہے۔ ہم تو آپ کے پاس روحانیت (spirituality) کی تلاش میں آئے تھے۔ پہلے ہم سمجھتے تھے کہ اسلام کا مطالعہ اسلام کے بارے میں ہمارے منفی ذہن کو مزید پختہ کر دے گا۔ مگر آپ نے ہمارے اوپر ڈی کنڈیشننگ کاجو پراسس چلایا اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ ہم اسلام کی تصویر کو اس کی اصلی صورت میں دیکھ سکیں۔ اسپر پچول کلاس سے ایک اور بات مجھے معلوم ہوئی ۔ یہ نو جوان میری کلاس میں آنے لگے تو میں اپنی عادت کے مطابق، ایسا نہیں کرتا تھا کہ ان سے میٹھی میٹھی باتیں کروں۔ بلکہ میں شدید الفاظ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2019 All issues

Printed page