گلیلیو اور سائنس
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۹، صفحہ ۴۱
ہے۔ وہ انگلینڈ کے ایک دولت مند خاندان میں پیدا ہوا۔ اس نے اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کی۔ اس کو نوبل انعام ملا جو آج کی دنیا میں سب سے بڑا علمی اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ اس نے مذہب کو چھوڑ دیا اور مادی سائنس میں سکون تلاش کرنے کی کوشش کی۔ مگر بھر پور عمر گزارنے کے باوجود اس کو وہ چیز نہیں ملی جس کو سکون کہا جاتا ہے۔ برٹرینڈ رسل کی طویل خود نوشت سوانح عمری کے آخر میں ہم اس کے ہاتھ سے یہ الفاظ لکھے ہوئے پاتے ہیں:
The inner failure has made my mental life a perpetual battle (p. 727) اندرونی ناکامی نے میری ذہنی زندگی کو ایک مستقل جنگ میں مبتلا رکھا۔
گلیلیو اور سائنس
آپ سائنس کی تاریخ کی کسی کتاب میں گلیلیو (1642- 1562) کا باب کھول کر دیکھیں تو وہاں آپ کو اس قسم کے الفاظ لکھے ہوئے ملیں گے کہ گلیلیو نے مشاہدہ اور تجربہ اور ریاضی کو جس طرح استعمال کیا اس نے جدید سائنس کی بنیاد رکھنے میں مدد دی:
His use of observation, experiment and mathematics helped lay foundation of modern science. گلیلیو کا خاص کارنامہ کیا ہے۔ گلیلیو کا خاص کارنامہ یہ ہے کہ اس نے چیزوں کی ابتدائی صفات کو، جو ابعاد (Dimension) اور وزن (Weight) پر مشتمل ہیں اور جن کی آسانی سے پیمائش کی جاسکتی ہے، ان کو ثانوی صفات سے الگ کر دیا جو شکل، رنگ اور بو وغیرہ سے تعلق رکھتی ہیں اور جن کی پیمائش نہیں کی جاسکتی۔ ایک لفظ میں یہ کہ اس نے کمیت کو کیفیت سے جدا کر دیا۔ گلیلیو کے اس فعل نے اس بات کو ممکن بنا دیا کہ آدمی میٹر کو استعمال کر سکے، بغیر اس کے کہ اس نے میٹر کے بارے میں ضروری معلومات حاصل کی ہوں۔ اس طرح فطرت کو کام میں لانے کا دروازہ کھل گیا۔ ٹکنالوجی کو ترقی ہوئی اور بے شمار نئی نئی چیزیں بننے لگیں جو انسان کے لیے مفید ثابت ہوئیں۔ مگر زیادہ مدت نہیں گزری کہ انسان کا عدم اطمینان ظاہر ہو گیا۔ معلوم ہوا کہ اس معاملہ میں سائنس داں یا انجینئر کا معاملہ اس جاہل بڑھئی سے کچھ بھی مختلف نہیں جو لکڑی کو کاٹ کر فرنیچر بناتا
‹ Previous page Next page › Contents of April 2019 All issues