توحید کا مقام
الرسالہ، مئی ۲۰۱۹، صفحہ ۹
توحید کا مقام
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا شَاءَ اللهُ وَشِئْتَ قَالَ: جَعَلْتَ لِلَّهِ نِدّاً بِلْ مَا شَاءَ اللهُ وَحْدَهُ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 13005)۔ یعنی ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں۔ یہ سن کر آپ نے کہا: کیا تو نے مجھے اللہ کے برابر کر دیا۔ بلکہ جو اللہ اکیلا چاہے۔ ند کا معنی ہے برابر (equal)۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ کی عظمت اتنی زیادہ ہے کہ کوئی ہستی کسی ادنی پہلو سے بھی اس کے ہمسر نہیں ہو سکتی۔ جو آدمی اللہ کی غیر مشترک عظمت کا حقیقی شعور رکھتا ہو، وہ اس معاملے میں اتنا زیادہ حساس ہوگا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو ضمیر (pronoun) کی شکل میں بھی برابر کرنا گوارا نہیں کر سکتا۔ قرآن کی مختلف آیتوں میں اللہ کی عظمت کا بیان ہوا ہے، مثال کے طور پر آیۃ الکرسی (البقرۃ، 2:255)۔ آپ آیۃ الکرسی کو سمجھ کر پڑھیں تو آپ کا دل دہل اٹھے گا۔ مثلاً اللہ کی عظمت کے بارے میں آیۃ الکرسی کے ان الفاظ کو پڑھیے ـ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ: His throne extends over the heavens and the earth. زمین و آسمان ناقابل قیاس حد تک وسیع ہے۔ اس عظیم کائنات کو اللہ رب العالمین ہر لمحہ سنبھالے ہوئے ہے۔ اسی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: يَسْأَلُهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ (55:29)۔ یعنی اسی سے مانگتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ ہر روز اس کا ایک کام ہے۔
یہ معاملہ عقل کو چکرانے (mind-boggling) کی حد تک عظیم ہے۔ ایک اردو شاعر نے 1857ء میں دلی کی بربادی کو یاد کرتے ہوئے یہ کہا تھا :
اس بات کو کہنے کے لیے کہاں سے جگر آئے
اللہ رب العالمین کی عظمت کے بارے میں یہ بات بے شمار گنا حد تک بڑی ہے۔