ذکرِ کثیر کیا ہے
الرسالہ، مئی ۲۰۱۹، صفحہ ۱۰
ذکرِ کثیر کیا ہے
قرآن کی کئی آیتوں میں کہا گیا ہے کہ اللہ کا ذکر کثیر کرو۔ مثلاً يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا (33:41)۔ یعنی اے ایمان والو، اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو۔ اللہ کے ذکر کثیر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زبان سے بار بار اللہ دہرائو، یا بار بار زبان سے اس طرح کے الفاظ بولو کہ الحمد للہ، سبحان اللہ، ماشاء اللہ، وغیرہ۔
اللہ کے ذکر کثیر کا مطلب مخصوص الفاظ کی تکرار نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب معنوی اعتبار سے اللہ بار بار عارفانہ رسپانس (realized response) دینا ہے۔ یہ معرفت کا ایک کلمہ ہے، نہ کہ حروف تہجی کے کچھ کلمات کی لفظی تکرار۔ ایک حدیث سے اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ، عائشہ آپ کے بارے میں فرماتی ہیں: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 373)۔ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ کو یاد کرتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر موقع (occasion) پر آپ کو اللہ کی یاد آئے۔ ہر تجربہ آپ کے لیے ایک پوائنٹ آف ریفرنس بن جائے، جس کو لے کر آپ اللہ کو بار بار یاد کرتے رہیں۔ ذکر اللہ کی معرفت کی بنیاد پر زبان سے جاری ہونے والا ایک کلمہ ہے، وہ الفاظ کی تکرار نہیں۔ مثلاً آپ رات کو بستر پر گئے، اور آپ کو نیند آگئی۔ اس وقت آپ کو یہ یاد آیا کہ اللہ نے نیند کی صورت میں کیسی عجیب نعمت عطا کی ہے کہ دن بھر کی تھکان کے بعد انسان سو جاتا ہے، اور پھر وہ صبح کو تازہ دم ہو کر اٹھتا ہے۔ اسی طرح رات کے وقت آپ کو اندھیرے کا تجربہ ہوا، پھر صبح ہوئی، اور دوبارہ روشن سورج نکل آیا۔ اس وقت آپ کو یاد آیا کہ اللہ نے سورج کی شکل میں کتنی بڑی نعمت انسان کو دی ہے۔ ذکر کثیر دراصل ذہنی ارتقا (intellectual development) کا نتیجہ ہے۔ اگر آپ کا ذہن ایک عارفانہ ذہن (realized mind) ہو تو زندگی کا ہر تجربہ آپ کو اللہ کی یاد دلائے گا، اور آپ اللہ کا اعتراف مختلف عارفانہ ذہن کے ساتھ کرتے رہیں گے۔ یہی ہے اللہ کا ذکر کثیر۔