Al-Risala · May 2019 · page 23

I think, therefore, I exist

الرسالہ، مئی ۲۰۱۹، صفحہ ۲۳

خدا کا وجود

خدا کی دریافت انسان کے لیے معرفت کا آغاز ہے۔ جو شخص اللہ رب العالمین کو دریافت کرلے، اسی نے تمام حقیقتوں کو دریافت کر لیا، اور اس نے حقیقت کے سرے کو پالیا۔ خدا کی دریافت کے بغیر ہر چیز غیر دریافت شدہ بنی رہتی ہے۔ خدا کی دریافت کرنے کے بعد ہر چیز دریافت شدہ بن جاتی ہے۔ خدا کو دریافت کرتے ہی انسان کو وہ شاہ کلید (master key) مل جاتی ہے، جس کے بعد اس کے لیے ہر چیز کو دریافت کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔ خدا کو دریافت کرتے ہی اس کے ذہن کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں، یہاں تک کہ کوئی دروازہ اس پر بند نہیں رہتا۔ خدا کی دریافت کسی انسان کے لیے اتنا ہی آسان ہے، جتنا خود اپنی دریافت۔ اس لیے کہا گیا ہے: مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ (حلیة الاولیاء، 10/208)۔ یعنی جس نے اپنے آپ کو دریافت کیا، اس نے اپنے خدا کو دریافت کر لیا۔ اس قول کو ایک حدیث پر غور کر کے سمجھا جا سکتا ہے۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر (6227)۔ یعنی اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔

اس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ اللہ رب العالمین کے اندر جو صفات رب کی سطح پر ہیں، وہی صفات بندے کے اندر انسان (مخلوق) کی سطح پر رکھی گئی ہیں۔ اس بنا پر یہ ممکن ہے کہ آدمی ایک سے دوسرے کو سمجھے۔ وہ اپنی معرفت حاصل کر کے اللہ رب العالمین کی معرفت تک پہنچ جائے۔ اگر آدمی ایسا کرے تو اس کے لیے اللہ کی یاد، اللہ سے دعا کرنا، اللہ کا تصور قائم کرنا، آسان ہو جائے گا۔ مثلاً انسان اپنے ساتھ کسی کی شرکت کو پسند نہیں کرتا۔ اس کو غیرت آتی ہے کہ اس کے ساتھ کوئی انسان اس کا شریک بن جائے۔ اس تجربے سے انسان کو یہ سبق لینا چاہیے کہ اللہ رب العالمین بدر جہاں زیادہ اس صفت کا حامل ہوگا۔ انسان اگر سنجیدہ ہو تو یہ اصول اس کے لیے خدا کی معرفت میں بہت زیادہ مددگار بن جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2019 All issues

Printed page