I think, therefore, I exist
الرسالہ، مئی ۲۰۱۹، صفحہ ۲۴
انسان کی تخلیق
علم فلکیات (astronomy) کے موضوع پر ہر زبان میں بڑی تعداد میں کتابیں موجود ہیں۔ آپ فلکیات کے موضوع پر کوئی کتاب پڑھیے، تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کائنات (universe) ناقابل قیاس حد تک بڑی کائنات ہے۔ وہ متحرک ستاروں اور سیاروں سے بھری ہوئی ہے۔ لیکن مطالعہ بتاتا ہے کہ کائنات نہایت عظیم ہونے کے باوجود ایک بے خطا کائنات (flawless universe) ہے۔ کائنات ریاضیاتی صحت (mathematical precision) کے اصول پر قائم ہے۔ کائنات کی اس حقیقت کا حوالہ خود قرآن میں ایک ناقابل انکار حقیقت کے طور پر کیا گیا ہے (الملک،4-3: 67)۔
اس کے بعد آپ انسانی دنیا کو دیکھیے، تو آپ کو دونوں دنیاؤں میں ایک عجیب فرق دکھائی دے گا۔ انسانی دنیا برعکس طور پر مصائب (suffering) سے بھری ہوئی ہے۔ یہ مصائب اتنے زیادہ عام ہیں کہ ہر عورت اور ہر مرد کو اپنی زندگی میں اس کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس فرق پر غور کرتے ہوئے، مجھے ایک واقعہ یاد آیا۔ یہ واقعہ غالباً 1972 کا ہے، جب کہ میں نے احمد آباد کا ایک سفر کیا تھا۔ احمد آباد کا سفر کے عنوان سے یہ واقعہ الجمعیۃ ویکلی میں شائع ہو چکا ہے۔ اس سفر کے دوران میری ملاقات ایک نو جوان انجینئر سے ہوئی۔ اس نے جلد ہی شہر احمد آباد میں ایک فیکٹری لگائی تھی۔ یہ فیکٹری بظاہر نہایت اعلی معیار پر قائم کی گئی تھی۔ نوجوان نے اپنی فیکٹری کے مختلف حصوں کو دکھاتے ہوئے کہا کہ ہماری فیکٹری جدید معیار پر قائم کی گئی ہے۔ مگر ابھی تک ہمارے پاس کوئی کوالیفائڈ مینیجر نہیں۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے اس نے یہ جملہ کہا۔ اپنی تو لیمیٹیشننس (limitations) آجاتی ہیں مینجمنٹ سائیڈ پر۔
اس واقعہ کو یاد کرتے ہوئے میری زبان پر یہ جملہ آگیا کہ کیا خدا نخواستہ خالق کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، کیا خالق کی لیمیٹیشننس آجاتی ہیں انسان کی سائیڈ پر۔ اس سوال پر غور کرتے ہوئے