خدا کی پہچان
الرسالہ، مئی ۲۰۱۹، صفحہ ۲۸
خدا کی پہچان
خدا کو پہچاننے کے بہت سے پہلو ہیں۔ اگر کوئی خدا کو پہچاننا چاہے، تو ان پہلوؤں سے خدا کو دریافت کر سکتا ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ فطرت کے نظام کا تقابل انسانی نظام سے کیا جائے۔
محمد بن الحسن الفتال ( وفات 508ھ) ایک مشہور عالم ہیں، ان کی ایک مشہور کتاب ہے، اس کا نام ہے روضۃ الواعظین۔ انھوں نے اس کتاب میں علی ابن ابی طالب کے حوالے سے ان کا ایک قول نقل کیا ہے : قال أبو جعفر : قام رجل ، فقال : يا أمير المؤمنين بماذا عرفت ربك ؟ قال : بفسخ العزائم ومنع الهمة لما ان هممت بأمر فحال بيني وبين همتي ، وعزمت فخالف القضاء عزمي ، علمت أن المدبر غيري ( روضة الواعظين ، صفحہ نمبر 30 )۔ یعنی ابو جعفر نے کہا: ایک آدمی کھڑا ہوا، اس نے پوچھا: اے امیر المومنین، آپ نے اپنے رب کو کیسے پہچانا۔ علی نے کہا: پختہ عزم کے ٹوٹنے، اور ارادے کے ناتمام رہنے سے۔ میں نے ایک کام کرنے کا ارادہ کیا تو کوئی میرے اور میرے ارادے کے درمیان حائل ہو گیا۔ میں نے ایک عزم کیا، تو تقدیر میرے عزم کے خلاف گئی۔ اس سے میں نے یہ جانا کہ تدبیر کرنے والا میرے علاوہ کوئی اور ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے اپنے رب کو پہچانا اپنے منصوبوں کے ٹوٹنے سے۔ اس بات کو آج کل کی زبان میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ تقابل (comparison) کے اصول کو اپلائی کر کے اللہ کی معرفت حاصل کرنا ہے۔ یعنی خدا کے منصو جو فطرت (nature) میں کام کر رہے ہیں، ان کا تقابل انسان کے منصوبوں سے کیا جائے۔ اس تقابل سے معلوم ہوتا ہے کہ رب العالمین کے منصوبے زیرو ڈیفیکٹ مینجمنٹ (zero-defect management) کی سطح پر جاری ہیں۔ اس کے برعکس، انسان کے منصوبے بے سب کے سب کوشش کے باوجود زیرو ڈیفیکٹ کے معیار پر پورے نہیں اترتے۔ موجودہ زمانے میں یہ دریافت ہوئی کہ فطرت (nature) کے تمام منصوبے