In comparison that you understand
الرسالہ، مئی ۲۰۱۹، صفحہ ۲۹
زیرو ڈیفیکٹ مینجمنٹ کی سطح پر چل رہے ہیں۔ مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں میں کوشش کی گئی کہ انسان کی صنعت بھی زیرو ڈیفیکٹ مینجمنٹ کے اصول پر چلائی جائے۔ لیکن اس معاملے میں کامل ناکامی ہوئی۔ یہ معاملہ انسان کی نگرانی میں چلنے والے بڑے سے بڑے آرگنائزیشن سے لے کر انفرادی سطح پر جاری تمام منصوبوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ میرے دفتر میں کچھ لوگ ملاقات کے لیے آئے۔ ان کے لیے چائے منگائی گئی۔ چائے پینے کے بعد چائے کے تمام برتن ایک ٹرے (tray) میں رکھ دیے گئے۔ یہ ٹرے میز کے ایک طرف رکھی ہوئی تھی۔ کسی وجہ سے پوری ٹرے فرش پر گر پڑی۔ ٹرے میں موجود ٹی سیٹ کے تقریبا دو درجن آئٹم تھے ۔ سب کے سب نیچے گر کر ٹوٹ گئے۔ اس تجربے کو آپ ایک اصول کے تحت لائیے :
In comparison that you understand
رب العالمین بیشمار چیزوں کو پیچ کر رہا ہے۔ لیکن کہیں بھی کوئی نقص نہیں ، آتا۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے : الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقاً مَا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفَاوُتِ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ - ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئاً وَهُوَ حَسِيرٌ (67:3-4) ۔ یعنی جس نے بنائے سات آسمان اوپر تلے ، تم رحمن کے بنانے میں کوئی خلل نہیں دیکھو گے، پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لو، کہیں تم کو کوئی خلل نظر آتا ہے۔ پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھو، نگاہ ناکام تھک کر تمہاری طرف واپس آجائے گی۔ اس خدائی مینجمنٹ کے مقابلے میں انسانی کوششوں کو دیکھئے ۔ انسان جب ایسا کرتا ہے تو وہ بہت ساری چیزوں کو کھودیتا۔ اب انسان غور کرے گا تو اس کو یہ دریافت ہوگا کہ اس کا ئنات کا بہت بڑا حی و قیوم خدا ہے۔ ☆☆☆☆☆ خدا مشاهده (observation) میں نہیں آتا مگر خدا تجربہ کے اعتبار سے ضرور ایک معلوم حقیقت ہے۔ انسان کے اندر اگر حقیقت پسندانہ مزاج ہو تو بلا شبہ وہ خدا کے وجود کا اقرار کرے گا۔