خدا کی دریافت
الرسالہ، مئی ۲۰۱۹، صفحہ ۳۰
خدا کی دریافت
انسان کی تاریخ میں غالباً ایک ایسا واقعہ ہے، جو سب سے بڑی حقیقت ہونے کے باوجود عملاً ایک غیر دریافت شدہ حقیقت (missing discovery) بن گیا۔ انسان نے خدا کی تخلیق کو دریافت کیا، لیکن انسان خود خالق کو دریافت کرنے میں ناکام رہا۔ بظاہر خدا (God) اہل مذاہب کا سب سے بڑا موضوع (subject) رہا۔ لیکن اہل مذاہب کے یہاں خدا فنی (technical) بحثوں کا موضوع بن گیا۔ اہل مذاہب عملاً خدا کو ایک حی و قیوم (the Living, the All-Sustaining) خدا کے طور پر دریافت کرنے میں ناکام رہے۔
اہل مذاہب نے خدا کو اقراری ایمان کا حصہ تو بنایا، لیکن وہ ایسے خدا کو دریافت نہ کر سکے، جو ان کے لیے حب شدید اور خوف شدید کا ذریعہ (source) بن جائے۔ اللہ رب العالمین نے پانچ سو سال پہلے طبیعی سائنس (physical science) کو وجود بخشا۔ سائنس اس معاملے میں ایک تائیدی علم کی حیثیت سے ابھرا۔ سائنس اپنی حقیقت کے اعتبار سے تائیدی ڈیٹا (supporting data) کی حیثیت رکھتا تھا۔ لیکن اہل مذاہب اس حقیقت کو دریافت نہ کر سکے۔ انھوں نے سائنس میتھمیٹکس کا ایک شعبہ سمجھا، اور اس کو سیکولر علم کے خانے میں ڈال دیا۔
مذہب انسان کو خدا کا عقیدہ دیتا ہے۔ لیکن خدا کو کامل معنوں میں ایک زندہ حقیقت بنانے میں سائنس کے علوم ایک مددگار علم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر آدمی صحیح ذہن کے ساتھ سائنس کو پڑھے تو سائنس اس کے مذہبی ادراک میں اضافہ کرنے کا سبب بن جائے گا۔ جو لوگ اس معاملے میں تجربہ کرنا چاہتے ہیں، ان سے میں کہوں گا کہ پہلے آپ مذہبی کتابوں کا مطالعہ کر کے اپنے اندر خدا کا عقیدہ پیدا کیجیے، اس کے بعد آپ حسب ذیل کتابوں کا مطالعہ کیجیے :
The Evidence of God in an Expanding Universe, by John