فوق الفطری حکم
الرسالہ، مئی ۲۰۱۹، صفحہ ۳۹
فوق الفطری حکم
قرآن میں ایک فطری قانون کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : اِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ اَمْرَ اَلَّا تَعْبُدُوٓا إِلَّا إِيَّاهُ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسیِ لَا يَعْلَمُونَ (40 یعنی حکم صرف اللہ کے لئے ہے۔ اس نے آرڈر دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے۔ مگر بہت لوگ نہیں جانتے۔
اس آیت میں حکم کا لفظ بطور خبر (information) ہے، جب کہ عبادت کا لفظ بطور انشاء ہے۔ خبر کا مطلب ہے، کسی ہونے والے واقعے کے بارے میں انفارمیشن دینا، اطلاع کرنا، اور انشاء کا مطلب ہے، کسی بات کے کرنے یا نہ کرنے کا مطالبہ کرنا یا حکم دینا۔ اس آیت میں یہ خبر دی گئی ہے کہ کائنات میں حکم یعنی الفطری اقتدار (supernatural sovereignty) صرف اللہ کا ہے، اور وہ بالفعل ازل سے ابد تک قائم ہے، اور بحیثیت مقتدر اعلیٰ اس کا امر یہ ہے کہ انسان صرف اس کی عبادت کرے، اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرے ۔ قرآن کی اس آیت سے حکومت الہیہ کا نظریہ نکالنا سراسر بے بنیاد ہے۔ یہ خبر کو انشاء بنانے کے ہم معنی ہے۔ ایسا کرنا مذموم تفسیر بالرائے کی ذیل میں آتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ اللہ کا حکم ساری کائنات میں بالفعل قائم ہے، نہ کہ انسان اس کو قائم کرے۔ یہ معاملہ خبر کا معاملہ ہے، نہ کہ انشاء کا معاملہ ۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اللہ رب العالمین کو دریافت کرے۔ اس کی دریافت اتنی زیادہ گہری ہو کہ وہ اَنَّ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 50) کا کیس بن جائے ۔ یعنی تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو، گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو۔ بات صرف عبادت کی حد تک نہ ہو، بلکہ وہ اپنی پوری زندگی اسی میں جینے لگے۔ اس کا جینا، اور اس کا مرنا، سب کا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہو جائے۔ وہ ہر چیز میں اللہ کو دیکھے، وہ ہر چیز میں اللہ کی کار فرمائی کا مشاہدہ کرے، وہ اس طرح کامل معنوں میں اللہ کا عبد بن جائے ، جیسے کہ وہ اس کو دیکھ رہا