Al-Risala · May 2019 · page 40

فوق الفطری حکم

الرسالہ، مئی ۲۰۱۹، صفحہ ۴۰

ہے۔ اس کے لیے اللہ کا معاملہ صرف رسمی عقیدہ کا معاملہ نہ رہے، بلکہ اللہ اس کے لیے ایک زندہ عقیدہ کا معاملہ بن جائے، جیسا کہ آیت الکرسی میں بیان کیا گیا ہے۔ آیت الکرسی ایک لمبی آیت ہے اس کا ترجمہ یہ ہے:

اللہ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ زندہ ہے، سب کا تھامنے والا۔ اس کو نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے۔ وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے، اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جو وہ چاہے ۔ اس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے۔ وہ تھکتا نہیں ان کے تھامنے سے۔ اور وہی ہے بلند مرتبہ، بڑا۔

اللہ کی دریافت انسان کے لیے ویسے ہی ایک حقیقت ہے، جیسے کہ کسی سائنسی حقیقت کو دریافت کرنا۔ مثلاً انسان جب آسمان کی طرف دیکھتا ہے، اور وہ پاتا ہے کہ کہکشائیں (galaxies) ، اور سورج، چاند اور پورا شمسی نظام (solar system) نہایت صحت (accuracy) کے ساتھ چل رہا ہے۔ صبح کو سورج کا نکلنا، اور شام کو سورج کا ڈوبنا انتہائی صحت کے ساتھ پیش آتا ہے۔ ملین اور بلین سال کے اندر بھی اس میں کوئی فرق نہیں آتا۔ وہ دریافت کرتا ہے کہ کائنات مسلسل طور پر پھیل رہی ہے۔

چاروں طرف اس کا یہ پھیلنا (expansion) انتہائی صحت (precision) کے ساتھ پیش آرہا ہے۔ متحرک ملکی وے (Milky Way) کے حاشیہ پر پورا شمسی نظام اس طرح قائم ہے کہ شمسی نظام بھی حرکت میں ہے، اور کہکشاں بھی حرکت میں ہے، اور یہ پورا واقعہ حد درجہ صحت کے ساتھ پیش آرہا ہے۔ ملین اور بلین سال کے اندر بھی اس میں کوئی فرق نہیں آتا۔ اس طرح کے متحرک نظام اتخلا (space) کے اندر پھیلے ہوئے ہیں۔ ہر ایک مسلسل طور پر بے حد تیز رفتار حرکت کی حالت میں ہے۔ مگر ان میں کبھی کوئی ادنیٰ درجہ کا ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ یہ پورا نظام انتہائی صحت کے ساتھ متحرک ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2019 All issues

Printed page