Al-Risala · January 2019 · page 25

سی پی ایس انٹرنیشنل

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۹، صفحہ ۲۵

حیات ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ عدم ٹکراؤ کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے زندگی کی تعمیر و تشکیل کی جائے ۔ میدان جنگ کے محدود دائرے سے باہر کی پوری زندگی امن کے دائرے میں داخل ہے۔ روحانیت کو عام طور پر ایک پُراسرار ڈسپلن سمجھا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ روحانیت اس سے زیادہ وسیع ہے۔ روحانیت دراصل، ربانیت (divine culture) کا نام ہے۔ روحانیت کا تعلق پوری انسانی زندگی سے ہے۔ روحانیت، دوسرے لفظوں میں، خدا رُخی زندگی (God-oriented life) کا نام ہے۔ روحانیت یہ ہے کہ آدمی اعلی شعوری سطح پر سچائی کی معرفت حاصل کرے۔ فکری عمل کے ذریعے وہ اپنے اندر ربانی شخصیت پیدا کرے۔ وہ سچائی کو ابدی حقیقت کی صورت میں دریافت کرے۔ وہ محدود مادی دنیا سے اوپر اٹھ کر سچائی کو اس کی آفاقی صورت میں پالے ۔ وہ زندگی کی معنویت کو دریافت کرکے پوری طرح ایک با مقصد انسان بن جائے۔

سی پی ایس انٹرنیشنل اپنے فکر کے اعتبار سے ایک آفاقی تحریک ہے اور اپنے مزاج کے اعتبار سے انسان فرینڈلی مزاج رکھتی ہے۔ سی پی ایس کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے محدود دائرے سے اٹھ کر کائناتی کلچر کا حصہ بن جائے ۔ وہ امن اور روحانیت اور حقیقت شناسی کی لامحدود دنیا میں جینے لگے۔

☆☆☆☆☆☆

موجودہ زمانے میں جو تبدیلیاں ظہور میں آئی ہیں، وہ اتنی زیادہ ہیں کہ کوئی انسائیکلو پیڈیا بھی ان کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ ان کے بیان کے لیے ایک پوری لائبریری کی ضرورت ہے۔ تاہم مختصر طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان تبدیلیوں کی بنا پر تاریخ انسانی میں پہلی بار ایک نیا دور پیدا ہوا، ایک ایسا دور جس کا تصور قدیم انسان نہیں کر سکتا تھا۔ یہ دور اپنی حقیقت کے اعتبار سے ، مکمل طور پر ایک موافق اسلام دور ہے۔ مزید یہ کہ دورِ جدید کے یہ عظیم امکانات تمام تر امن کے تصور پر مبنی ہیں۔ ان امکانات کو استعمال کرنے کے لیے نہ جنگ کی ضرورت ہے اور نہ کوئی سیاسی ایمپائر قائم کرنے کی۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2019 All issues

Printed page