روحانی ارتقا
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۹، صفحہ ۲۶
روحانی ارتقا
میں ذاتی طور پر اسپرچول ڈیولپمنٹ کو بہت اہمیت دیتا ہوں، لیکن میرے نزدیک اسپرچول ڈیولپمنٹ ایک مائنڈ بیسڈ ڈسپلن (mind-based discipline) ہے، نہ کہ ہارٹ بیسڈ ڈسپلن (heart-based discipline)_ مبنی بر قلب میڈیٹیشن آدمی کو وجد (ecstasy) تک لے جاتا ہے۔ جب کہ مبنی بر ذہن میڈیٹیشن آدمی کو انٹلیکچول ڈیویلپمنٹ تک پہنچاتا ہے، اور انٹلیکچول ڈیویلپمنٹ ہی پیس آف مائنڈ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
روحانیت کا اصل مقصد معرفت ہے، اور معرفت کا دائرہ اتنا بڑا ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں ۔ رابندر ناتھ ٹیگور (1941-1861) نے اپنی کتاب گیتانجلی میں لکھا تھا، بینا کے تاروں کو سلجھانے میں ساری عمر بیت گئی، جوانتَم گیت میں گانا چاہتا تھا، نہ گا سکا۔ جو آدمی ابھی صرف متلاشی (seeker) ہو، وہ گویا قبلِ معرفت کے دور میں ہے۔ اس کے لیے بھی تلاش معرفت ایک لامحدود میدان کی حیثیت رکھتا ہے، اور جو انسان معرفت کی دریافت تک پہنچ گیا ہو، اس کے لیے بھی معرفت کا میدان ایک لامحدود میدان ہے۔ اس لامحدود میدان کو پار کرنا، دونوں ہی کا سب سے بڑا کنسَرن ہوتا ہے۔
روحانی ارتقا (spiritual development) کا مترآنی نام ربانی ارتقا (Rabbani development) ہے۔ یہ ربانی ارتقا کسی انسان کی فطرت کی سب سے بڑی تمنا ہوتی ہے۔ ایک انسان جو مادیات سے اوپر اٹھ گیا ہو، وہ محسوس کرتا ہے کہ میرے ذہن میں جو خیالات آتے ہیں، ان کو ادا کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں۔ وہ مسلسل طور پر اسی احساس میں جیتا ہے جس کا ایک نمونہ ٹیگور کے مذکورہ الفاظ میں موجود ہے۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے سب سے بڑی چیز جو چاہتا ہے، وہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایکسپریس (express) کر سکے۔ مگر ذہنی ارتقا کا ہر درجہ اس کو صرف یہ بتاتا ہے کہ وہ اپنی دریافت کو الفاظ میں بیان کرنے سے عاجز ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2019 All issues