عارف انسان
الرسالہ، مئی ۲۰۱۹، صفحہ ۴۲
زندہ رکھیں، ان کے لیے تو قرآن ایسی کتاب ہے کہ اس کو پڑھتے یا سنتے ہی انھیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی فطرت میں چھپی ہوئی روشنی اچانک روشن ہوگئی۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُورٌ (24:35)۔ یعنی اس کا تیل ایسا ہے گویا آگ کے چھوئے بغیر ہی وہ خود بخود جل اٹھے گا۔
اس فطری مطابقت کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ جس آدمی کو قرآن کی سچی معرفت ہو جائے، اس کے لیے قرآن معرفت حق(realization of truth) کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس کے بعد اس کی سوئی ہوئی فطرت بیدار ہو جاتی ہے۔ اس کے اندر ایک نئی ربانی شخصیت کی تعمیر شروع ہو جاتی ہے۔ یہ تعمیر شخصیت بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ ساری کائنات اس کے لیے رزق ربانی کا دسترخوان بن جاتی ہے۔
قرآن میں اس نوعیت کے حوالے کثرت سے موجود ہیں۔ ان کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس انسان کی زندگی میں قرآن اس طرح داخل ہو کہ اس کی فطرت کے تمام دروازے کھل جائیں، اس کی دماغ کی تمام کھڑکیاں خدائی الہامات(divine inspiration) کو بے روک ٹوک وصول کرنے لگیں۔ ایسا انسان ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔ قرآن اس کے لیے ہو جاتا ہے، اور وہ قرآن کے لیے۔
یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ عربی زبان میں فنی مہارت پیدا کریں، اور پھر مفروضہ علوم قرآن کے عالم بن جائیں تو آپ کو فہم قرآن حاصل ہو۔ بلکہ فہم قرآن یہ ہے کہ قرآن آپ کو اتنی گہرائی کے ساتھ متاثر کرے کہ آپ کی فطرت کی کھڑکیاں کھل جائیں۔ آپ قرآن کو ساری کائنات میں پڑھنے لگیں۔ جس طرح پھولوں میں شہد کی مکھی کے لیے نکر ہوتا ہے، اسی طرح مومن کے لیے ساری دنیا میں حق کا نکر (nectar of truth) موجود ہے۔ قرآن جب کسی انسان کو اس طرح متاثر کرے کہ کائنات میں چھپے ہوئے حق کے نکر اس کو ملنے لگیں، تو اس کے بعد اس کے اندر ایک نئی شخصیت بننے لگتی ہے، ربانی شخصیت، جس کو جنت کے ابدی باغوں میں جگہ دی جائے۔