Al-Risala · May 2019 · page 43

معرفت کا سفر

الرسالہ، مئی ۲۰۱۹، صفحہ ۴۳

معرفت کا سفر

حدیث کی کتابوں میں ایک روایت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کی گئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: لو عرفتم الله حق معرفته لمشيتم على البحور، ولزالت بدعائكم الجبال، ولو خفتم الله حق مخافته لعلمتم العلم الذي ليس معه جهل، ولكن لم يبلغ ذلك أحدا، قيل: يا رسول الله ولا أنت؟ قال: ولا أنا، الله عز وجل أعظم من أن يبلغ أحد أمره كله (کنز العمال، حدیث نمبر 5893)۔ یعنی اگر تم اللہ کی معرفت حاصل کرلو، جیسا کہ اس کی معرفت کا حق ہے، تو ضرور تم سمندروں میں چلنے لگو گے، اور تمھاری دعا سے پہاڑ زائل ہو جائے گا، اور اگر تم اللہ سے ڈرو، جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، تو ضرور تمھیں وہ علم حاصل ہو جائے گا، جس کے ساتھ کوئی جہل نہ ہو، لیکن کوئی اس تک نہیں پہنچا۔ کہا گیا: آپ بھی نہیں اے خدا کے رسول، آپ نے کہا: نہیں، میں بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہت عظیم ہے کہ کوئی اس کے تمام معاملات تک پہنچ جائے۔ مذکورہ اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، وہ کوئی پراسرار بات نہیں ہے۔ وہ دراصل ایک اہم حقیقت کو بتا رہی ہے۔ وہ یہ کہ انسان کو جو عقل دی گئی ہے، وہ صرف زمان و مکان (time and space) کے اندر سوچ سکتی ہے اور زمان و مکان کے اندر واقع چیزوں کو جان سکتی ہے۔ لیکن اللہ رب العالمین کا معاملہ یہ ہے کہ وہ زمان و مکان سے ماورا (beyond space and time) ہے۔ یہ انسان کا سب سے بڑا امتحان ہے۔ انسان کی عقل اگر چہ زمان و مکان کے اندر کام کرتی ہے، لیکن اس سے مطلوب ہے کہ وہ زمان و مکان سے ماورا حقیقت کو دریافت کرے اور اُس پر ایمان لائے۔ اسی دریافت کے لیے انسان کو وہ صلاحیت دی گئی ہے جس کو تصوراتی فکر (conceptual thinking) کہا جاتا ہے۔ اس دریافت تک پہنچنے ہی کا نام اعلیٰ معرفت ہے۔ جو انسان اپنے تصوراتی فکر، کو بھر پور طور پر استعمال کرے اور زمان و مکان کے ماورا حقیقت کو شعوری طور پر دریافت کرے، وہی وہ عارف انسان ہے جس کے لیے آخرت میں جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2019 All issues

Printed page