Al-Risala · June 2019 · page 7

مجتہدانہ اسلوبِ دعوت

الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۷

مجتہدانہ اسلوبِ دعوت

17 مئی 2003 کو دہلی میں ایس آئی او (SIO) کے دفتر میں میرا ایک پروگرام تھا۔ یہاں مجھے اسلام پسند نو جوانوں سے گفتگو کا موقع ملا۔ ایک نوجوان مسٹر شمشاد احمد نے سوال کیا کہ آج کے تعلیم یافتہ طبقہ کو کس طرح موثر انداز میں اسلام کا پیغام پہنچایا جائے۔ یہی سوال زیادہ تر گفتگو کا موضوع رہا۔ میں نے کہا کہ عام طور پر یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ اسلام آج کی دنیا میں کمتر ذہنی سطح کے لوگوں کی دلچسپی کا موضوع بن کر رہ گیا ہے، اعلیٰ ذہنی سطح کے لوگ اسلام کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ اس کا سبب مدعو کے اندر نہیں بلکہ داعی کے اندر ہے۔

دعوت کے نام پر موجودہ زمانے میں بہت سی سرگرمیاں جاری ہیں۔ مگر یہ سرگرمیاں وقت کے اعلیٰ فکری مستوى (intellectual level) کے مطابق نہیں۔ ان دعوتی سرگرمیوں میں کوئی فضائل کی کہانیاں سنار ہاہے۔ کوئی فخر پسندی کی غذا دے رہا ہے۔ کوئی اسلام کو سیاسی غلبے کا موضوع بنائے ہوئے ہے۔ کوئی ملی مسائل پر تقریر کرنے کو دعوت سمجھے ہوئے ہے۔ کوئی کمیونٹی ورک میں مشغول ہے اور اس کو دعوہ ورگ کا نام دیے ہوئے ہے۔ اس قسم کا اندازِ اعلیٰ ذہنی سطح کے لوگوں کو اپیل نہیں کر سکتا اس لیے وہ اس کی طرف متوجہ بھی نہیں ہوتے۔

قرآن میں دعوتی کلام کا معیار یہ بتایا گیا ہے کہ وہ قُلْ لَّهُمْ فِيْ أَنْفُسِهِمْ قَوْلًا بَلِيْغًا (4:63) کا مصداق ہو، یعنی ان سے ایسی بات کہو جوان کے دلوں میں اتر جائے۔ اس کا مطلب دوسرے الفاظ میں یہ ہے کہ وہ مخاطب کے ذہن کو ایڈریس کرے۔ موجودہ زمانے کے داعیوں کا کلام جدید انسان کے ذہن کو ایڈریس نہیں کرتا۔ اس لیے اسلام ان کے لیے قابلِ غور چیز بھی نہیں بنتا۔ آج دنیا میں ہر جگہ لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں مگر یہ زیادہ تر متوسط طبقے کے لوگ ہیں۔ بہت کم ایسے افراد ہوں گے، جو مثبت معنوں میں ذہنی انقلاب کے بعد اسلام میں داخل ہوئے ہوں۔ جدید تاریخ میں ایسے قلیل افراد کی ایک مثال مجھے ڈاکٹر نشی کانت چٹو پادھیائے میں ملتی ہے۔ وہ ایک سچے متلاشی حق تھے ۔ انھوں

‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues

Printed page